مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 96
عیسائیوں کو وہ پیغام پہنچا دوں جس کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے۔کاش اگر دلوں میں طلب ہوتی اور آخرت کے دن کا خوف ہوتا تو ہر ایک سچائی کے طالب کو یہ موقع دیا گیا تھا کہ وہ مجھ سے تسلی پاتا۔سچا مذہب وہ مذہب ہے جو الٰہی طاقت اپنے اندر رکھتا ہے اور فوق العادت کاموں سے خدا تعالیٰ کا چہرہ دکھاتا ہے۔سو میں اس بات کا گواہ ِرؤیت ہوں کہ ایسا مذہب توحید کا مذہب ہے جو اسلام ہے جس میں مخلوق کو خالق کی جگہ نہیں دی گئی۔اور عیسائی مذہب بھی خدا کی طرف سے تھا مگر افسوس کہ اب وہ اس تعلیم پر قائم نہیں اور اس زمانہ کے مسلمانوں پر بھی افسوس ہے کہ وہ شریعت کے اس دوسرے حصہ سے محروم ہو گئے ہیں جو ہمدردیٔ نوع انسان اور محبت اور خدمت پر موقوف ہے اور وہ توحید کا دعویٰ کرکے پھر ایسے وحشیانہ اخلاق میں مبتلا ہیں جو قابلِ شرم ہیں۔میں نے بارہا کوشش کی جو ان کو ان عادات سے چھڑائوں لیکن افسوس کہ بعض ایسی تحریکیں ان کو پیش آجاتی ہیں کہ جن سے وحشیانہ جذبات ان کے زندہ ہو جاتے ہیں۔اور وہ بعض کم سمجھ پادریوں کی تحریرات ہیں جو زہریلا اثر رکھتی ہیں۔مثلاً پادری عماد الدین کی کتابیں اور پادری ٹھاکر داس کی کتابیں اور صفدر علی کی کتابیں اور امہات المومنین اور پادری ریواڑی کا رسالہ جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نہایت درجہ کی توہین اورتکذیب سے پُر ہیں۔یہ ایسی کتابیں ہیں کہ جو شخص مسلمانوں میں سے ان کو پڑھے گا اگر اس کو صبر اور حلم سے اعلیٰ درجہ کا حصہ نہیں تو بے اختیار جوش میں آجائے گا کیونکہ ان کتابوں میں علمی بیان کی نسبت سخت کلامی بہت ہے جس کی عام مسلمان برداشت نہیں کر سکتے۔چنانچہ ایک معزز پادری صاحب اپنے ایک پرچہ میں جو لکھنؤ سے شائع ہوتا تھا لکھتے ہیں کہ اگر ۱۸۵۷ء کا دوبارہ آنا ممکن ہے تو پادری عماد الدین کی کتابوں سے اس کی تحریک ہوگی۔اب سوچنے کے لائق ہے کہ پادری عماد الدین کا کیسا خطرناک کلام ہے جس پر ایک معزز مشنری صاحب یہ رائے ظاہر کرتے ہیں اور گذشتہ دنوں میں مَیں نے بھی مسلمانوں میں ایسی تحریروں سے ایک جوش دیکھ کر چند دفعہ ایسی تحریریں شائع کی تھیں جن میں ان سخت کتابوں کا جواب کسی قدر سخت تھا۔ان تحریروں سے میرا مدعا یہ تھا کہ عوض معاوضہ کی صورت دیکھ کر مسلمانوں کا جوش