مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 95
قائم کی تھی۔سو ایسا ہی مجھے رُوح القدس سے مدد دی گئی ہے۔وہ خدا جو تمام نبیوں پر ظاہر ہوتا رہا اور حضرت موسیٰ کلیم اللہ پر بمقام طوُر ظاہر ہوا اور حضرت مسیح پر شعیر کے پہاڑ پر طلوع فرمایا اور حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر فاران کے پہاڑ پر چمکا وہی قادر قدوس خدا میرے پر تجلی فرما ہوا ہے اُس نے مجھ سے باتیں کیں اور مجھے فرمایا کہ وہ اعلیٰ وجود جس کی پرستش کے لئے تمام نبی بھیجے گئے میں ہوں۔میں اکیلا خالق اور مالک ہوں اور کوئی میرا شریک نہیں اور میں پیدا ہونے اور مرنے سے پاک ہوں اور میرے پر ظاہر کیا گیاکہ جو کچھ مسیح کی نسبت دنیا کے اکثر عیسائیوں کا عقیدہ ہے یعنی تثلیث و کفارہ وغیرہ یہ سب انسانی غلطیاں ہیں اور حقیقی تعلیم سے انحراف ہے۔خدا نے اپنے زندہ کلام سے بلا واسطہ مجھے یہ اطلاع دی ہے اور مجھے اُس نے کہا ہے کہ اگر تیرے لئے یہ مشکل پیش آوے کہ لوگ کہیں کہ ہم کیونکر سمجھیں کہ تو خدا کی طرف سے ہے تو انہیں کہہ دے کہ اس پر یہ دلیل کافی ہے کہ اُس کے آسمانی نشان میرے گواہ ہیں دُعائیں قبول ہوتی ہیں۔پیش از وقت غیب کی باتیں بتلائی جاتی ہیں اور وہ اسرار جن کا علم خدا کے سوا کسی کو نہیں وہ قبل از وقت ظاہر کئے جاتے ہیں اور دوسرا یہ نشان ہے کہ اگر کوئی ان باتوں میں مقابلہ کرنا چاہے مثلاً کسی دُعا کا قبول ہونا اور پھر پیش از وقت اس قبولیت کا علم دیئے جانا یااور غیبی واقعات معلوم ہونا جو انسان کی حد علم سے باہر ہیں تو اس مقابلہ میں وہ مغلوب رہے گا گووہ مشرقی ہویا مغربی یہ وہ دو نشان ہیں جو مجھ کو دیئے گئے ہیں تا ان کے ذریعہ سے اس سچے خدا کی طرف لوگوں کو کھینچوں جو درحقیقت ہماری رُوحوں اور جسموں کا خدا ہے جس کی طرف ایک دن ہر ایک کا سفر ہے۔یہ سچ ہے کہ وہ مذہب کچھ چیز نہیں جس میںالٰہی طاقت نہیں۔تمام نبیوں نے سچے مذہب کی یہی نشانی ٹھہرائی ہے کہ اُس میں الٰہی طاقت ہو۔یہ بات بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ یہ دونوں نام جو خدا تعالیٰ نے میرے لئے مقرر فرمائے یہ صرف چند روز سے نہیں ہیں بلکہ میری کتاب براہین احمدیہ میں جس کو شائع کئے قریباً بیس برس گذرگئے یہ دونوں نام خدا تعالیٰ کے الہام میں میری نسبت ذکر فرمائے گئے ہیں یعنی عیسیٰ مسیح اور محمد مہدی تا میں ان دونوں گروہ مسلمانوں اور