مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 94 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 94

مجموعه اشتہارات ۹۴ جلد سوم d حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا گیا تھا جس کے معنے ہیں کہ فطرتا ہدایت یافتہ اور تمام ہدایتوں کا وارث اور اسم ہادی کے پورے عکس کا محل ۔ سو خدا تعالیٰ کے فضل اور رحمت نے اس زمانہ میں ان دونوں لقبوں کا مجھے وارث بنا دیا اور یہ دونوں لقب میرے وجود میں اکٹھے کر دیئے سو میں ان معنوں کے رو سے عیسی مسیح بھی ہوں اور محمد مہدی بھی اور یہ وہ طریق ظہور ہے جس کو اسلامی اصطلاح میں بروز کہتے ہیں سو مجھے دو بروز عطا ہوئے ہیں بروز عیسی و بروز محمد ۔ غرض میرا وجود ان دونوں نبیوں کے وجود سے بروزی طور پر ایک معجون مرکب ہے۔ عیسی مسیح ہونے کی حیثیت سے میرا کام یہ ہے کہ مسلمانوں کو وحشیانہ حملوں اور خونریزیوں سے روک دوں جیسا کہ حدیثوں میں صریح طور سے وارد ہو چکا ہے کہ جب مسیح دوبارہ دنیا میں آئے گا تو تمام دینی جنگوں کا خاتمہ کر دے گا۔ سوال یسا ہی ہوتا جاتا ہے۔ آج کی تاریخ تک تمیں ہزار کے قریب یا کچھ زیادہ میرے ساتھ جماعت ہے لے جو برٹش انڈیا کے متفرق مقامات میں آباد ہے اور ہر ایک شخص جو میری بیعت کرتا ہے اور مجھ کو مسیح موعود مانتا ہے اُسی روز سے اُس کو یہ عقیدہ رکھنا پڑتا ہے کہ اس زمانہ میں جہا د قطعا حرام ہے کیونکہ مسیح آچکا ۔ خاص کر میری تعلیم کے لحاظ سے اس گورنمنٹ انگریزی کا سچا خیر خواہ اس کو بنا پڑتا ہے نہ محض نفاق سے اور یہ وہ صلح کاری کا جھنڈا کھڑا کیا گیا ہے کہ اگر ایک لاکھ مولوی بھی چاہتا کہ وحشیانہ جہادوں کے روکنے کے لئے ایسا پُر تاثیر سلسلہ قائم کرے تو اس کے لئے غیر ممکن تھا اور میں امید رکھتا ہوں کہ اگر خدا تعالیٰ نے چاہا تو چند سال میں ہی یہ مبارک اور امن پسند جماعت جو جہاد اور غازی پن کے خیالات کو مٹا رہی ہے کئی لاکھ تک پہنچ جائے گی اور وحشیانہ جہاد کرنے والے اپنا چولہ بدل لیں گے۔ اور محمد مہدی ہونے کی حیثیت سے میرا کام یہ ہے کہ آسمانی نشانوں کے ساتھ خدائی تو حید کو دنیا میں دوبارہ قائم کروں کیونکہ ہمارے سید و مولی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے محض آسمانی نشان دکھلا کر خدائی عظمت اور طاقت اور قدرت عرب کے بُت پرستوں کے دلوں میں اگر چه خاص آدمی جو علم اور فہم اسے سے کافی کافی بہرہ بہرہ ر رکھتے ہیں دس ہزار کے قریب ہوں گے مگر ایک قسم کے لوگ جن میں ناخواندہ بھی ہیں تیس ہزار سے کم نہیں ہیں بلکہ شاید زیادہ ہوں ۔ منہ