مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 92
حالت میں اسلامی قوموں میں سے کروڑہا لوگ روئے زمین پر ایسے پائے جاتے ہیں جو جہاد کا بہانہ رکھ کر غیر قوموں کو قتل کرنا اُن کا شیوہ ہے بلکہ بعض تو ایک محسن گورنمنٹ کے زیر سایہ رہ کر بھی پوری صفائی سے اُن سے محبت نہیں کر سکتے۔سچی ہمدردی کو کمال تک نہیں پہنچا سکتے اور نہ نفاق اور دورنگی سے بکلی پاک ہو سکتے ہیں۔اس لئے حضرت مسیح کے اوتار کی سخت ضرورت تھی۔سو میں وہی اوتار ہوں جو حضرت مسیح کی رُوحانی شکل اور خو اور طبیعت پر بھیجا گیا ہوں۔اور دوسری قسم ظلم کی جو خالق کی نسبت ہے وہ اس زمانہ کے عیسائیوں کا عقیدہ ہے جو خالق کی نسبت کمال غلو تک پہنچ گیا ہے۔اس میں تو کچھ شک نہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا تعالیٰ کے ایک بزرگ نبی ہیں اور بلاشبہ عیسیٰ مسیح خدا کا پیارا خدا کا برگزیدہ اور دنیا کا نور اور ہدایت کاآفتاب اور جناب الٰہی کا مقرب اور اس کے تخت کے نزدیک مقام رکھتا ہے اور کروڑہا انسان جو اس سے سچی محبت رکھتے ہیں اور اُس کی وصیتوں پر چلتے ہیں اور اس کی ہدایات کے کاربند ہیں وہ جہنم سے نجات پائیں گے لیکن باایں یہ سخت غلطی اور کفر ہے کہ اُس برگزیدہ کو خدا بنایا جائے۔خدا کے پیاروں کو خدا سے ایک بڑا تعلق ہوتا ہے اس تعلق کے لحاظ سے اگر وہ اپنے تئیں خدا کا بیٹا کہہ دیں یا یہ کہہ دیں کہ خدا ہی ہے جو اُن میں بولتا ہے اور وہی ہے جس کا جلوہ ہے تو یہ باتیں بھی کسی حال کے موقع میں ایک معنی کے رو سے صحیح ہوتے ہیں جن کی تاویل کی جاتی ہے۔کیونکہ انسان جب خدا میں فنا ہو کر اور پھر اس کے نور سے پرورش پاکر نئے سرے ظاہر ہوتا ہے تو ایسے لفظ اُس کی نسبت مجازاً بولنا قدیم محاورہ اہل معرفت ہے کہ وہ خود نہیں بلکہ خدا ہے جو اُس میں ظاہر ہوا ہے۔لیکن اس سے درحقیقت یہ نہیں کھلتا کہ وہی شخص درحقیقت ربّ العالمین ہے۔اس نازک محل میں اکثر عوام کا قدم پھسل جاتا ہے اور ہزارہا بزرگ اور ولی اور اوتار جو خدا بنائے گئے وہ بھی دراصل انہی لغزشوں کی وجہ سے بنائے گئے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ جب روحانی اور آسمانی باتیں عوام کے ہاتھ میں آتی ہیں تو وہ اُن کی جڑ تک پہنچ نہیں سکتے۔آخر کچھ بگاڑ کر اور مجاز کو حقیقت پر حمل کرکے سخت غلطی اور گمراہی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔سو اسی غلطی میں آج کل کے علماء مسیحی بھی گرفتار ہیں اور اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ کسی طرح حضرت مسیح علیہ السلام کو