مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 91
پابندی سے ملک کی خدمت میں مشغول ہیں۔اور اگریہ کہو کہ یہ لوگ تو سرحدی ہیں اس ملک کے مسلمانوں اور ان کے مولویوں کا کیا گناہ ہے تو اس کا جواب بادب ہم یہ دیتے ہیں کہ ضرور ایک گناہ ہے چاہو قبول کرو یانہ کرو اور وہ یہ کہ جب ہم ایک طرف سرحدی وحشی قوموں میں غازی بننے کا شوق دیکھتے ہیں تو دوسری طرف اس ملک کے مولویوں میں اپنی گورنمنٹ اور اس کے انگریزی حکام کی سچی ہمدردی کی نسبت وہ حالت ہمیں نظر نہیں آتی اور نہ وہ جوش دکھائی دیتا ہے۔اگر یہ اس گورنمنٹ عالیہ کے سچے خیر خواہ ہیں تو کیوں بالاتفاق ایک فتویٰ طیار کرکے سرحدی ملکوں میں شائع نہیں کرتے تا ان نادانوں کا یہ عذر ٹوٹ جائے کہ ہم غازی ہیں اور ہم مرتے ہی بہشت میں جائیں گے۔میں سمجھ نہیں سکتا کہ مولویوں اور اُن کے پیروئوں کا اس قدر اطاعت کاد عویٰ اور پھر کوئی عمدہ خدمت نہیں دکھلا سکتے۔بلکہ یہ کلام تو بطریق تنزّل ہے۔بہت سے مولوی ایسے بھی ہیں جن کی نسبت اس سے بڑھ کر اعتراض ہے۔خدا ان کے دلوں کی اصلاح کرے۔غرض مخلوق کے حقوق کی نسبت ہماری قوم اسلام میں سخت ظلم ہو رہا ہے۔جب ایک محسن بادشاہ کے ساتھ یہ سلوک ہے تو پھر اوروں کے ساتھ کیا ہوگا۔پس خدا نے آسمان پر اس ظلم کو دیکھا۔اس لئے اُس نے اس کی اصلاح کے لئے حضرت عیسیٰ مسیح کی خو اور طبیعت پر ایک شخص کو بھیجا اور اس کا نام اسی طور سے مسیح رکھا جیسا کہ پانی یا آئینہ میںایک شکل کا جو عکس پڑتا ہے اس عکس کو مجازاًکہہ سکتے ہیں کہ یہ فلاں شخص ہے کیوںکہ یہ تعلیم جس پر اب ہم زور دیتے ہیں یعنی یہ کہ اپنے دشمنوں سے پیار کرو اور خدا کی مخلوق کی عموماً بھلائی چاہو۔اس تعلیم پر زور دینے والا وہی بزرگ نبی گذرا ہے جس کا نام عیسیٰ مسیح ہے۔اور اس زمانہ میں بعض مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ بجائے اس کے کہ وہ اپنے دشمنوں سے پیار کریں ناحق ایک قابل شرم مذہبی بہانہ سے ایسے لوگوں کو قتل کر دیتے ہیں جنہوں نے کوئی بدی اُن سے نہیں کی بلکہ نیکی کی ،اس لئے ضرور تھا کہ ایسے لوگوں کی اصلاح کے لئے ایک ایسا شخص خدا سے الہام پاکر پیدا ہو جو حضرت مسیح کی خو اور طبیعت اپنے اندر رکھتا ہے اور صلح کاری کا پیغام لے کر آیا ہے۔کیا اِس زمانہ میں ایسے شخص کی ضرورت نہ تھی جو عیسیٰ مسیح کا اوتار ہے؟ بیشک ضرورت تھی۔جس