مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 80 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 80

مجموعہ اشتہارات ۸۰ جلد دوم (1) چھٹے ہر ایک صاحب کی تقریر کرنے کی ترتیب یہ ہوگی کہ جن صاحبوں کو اپنے مذہب کے اول ہونے کا دعوئی ہو۔یعنی جو صاحب اپنی کتاب کی نسبت تقدم زمانی کے مدعی ہوں جیسے آریہ صاحبان۔یہی صاحب پہلے دن میں تقریر کریں گے اور دوسرے دن وہ تقریر کریں گے جو دوسرے درجہ پر باعتبار زمانہ کتاب کے ہوں۔علیٰ ہذا القیاس سب سے آخر دن میں وہ صاحب تقریر کریں گے جن کی الہامی کتاب اُن کے بیان کے موافق آخری ہو۔اور جبکہ ہر ایک گروہ ایک ایک دن کے حساب سے اپنی اپنی تقریر میں ختم کر لیں گے تو پھر نئے سرے سے اسی ترتیب سے تقریر کرنا شروع کریں گے۔غرض اسی انتظام کے لحاظ سے تین دن کی میعاد پوری کی جائے گی۔اور اگر ایسی صورت ہو کہ آخری دنوں میں آخر پر تقریر کرنے والوں کو میعاد مقررہ میں سے دن نہ مل سکیں تو دویا تین دن اور بڑھا دیئے جائیں گے تا کوئی صاحب اس وقت سے محروم نہ رہے جو دوسروں کو دیا گیا ہے۔(۷) ساتویں ہر یک تقریر کرنے والا دوسرے مذہب کا ذکر ہرگز نہیں کرے گا بلکہ صرف اپنے مذہب اور اپنے اصول کی خوبیاں بیان کرے گا۔ہاں اس کے لیے یہ ضروری ہوگا کہ جو اعتراض اس کے مذہب پر غیر قو میں کرتی ہیں نرمی اور تہذیب سے اس کا جواب دے اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو کوئی اس پر اعتراض نہیں کر سکتا کیونکہ وہ اس صورت میں اپنی تقریر کا نقصان آپ اُٹھائے گا۔(۸) آٹھویں یہ کہ مذہب کی خوبیوں کے بیان کرنے کے وقت یہ ضروری ہوگا کہ بیان کرنے والا سب سے پہلے اس طریق معرفت کو بیان کرے جو خدا تعالیٰ کے اقرار یا انکار کی نسبت اُس کو معلوم ہے اور اپنے مشرب کے موافق اس بات پر بھی دلائل پیش کرے کہ مذہب کی کیوں ضرورت ہے اور انسان کی نجات اُن وسائل پر کیوں موقوف ہے جن کو وہ پیش کرتا ہے۔یا اگر دہر یہ ہے تو اس بارے میں جو چاہے بیان کرے اور ہر ایک کو اختیار ہوگا کہ جس طور اور جس طرز سے چاہے اپنے مذہب اور اپنی کتاب اور اپنی رائے کی تائید میں مفصل تقریر کرے ، مگر کسی مذہب کی تحقیر اور توہین سے قطعا پر ہیز کرنا ہوگا۔ہاں یہ ضروری ہوگا کہ ہر یک پابند کتاب جو جو خوبی اپنے مذہب کی بیان کرتا ہے وہ سب خوبیاں اپنی الہامی کتاب کی اصل زبان سے معہ پورے پتہ اور نشان کے پیش کرے۔مثلاً اسلام کے