مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 70
مجموعہ اشتہارات جلد دوم درخواست بھیجے گا۔مجھ کو کم امید ہے کہ اس کے لیے یہ کتاب باقی رہے۔اور اب ہم کتاب کے مضامین میں سے ایک مضمون بطور نمونہ کے لکھتے ہیں اور وہ یہ ہے۔باوانا تک صاحب پر پادریوں کا حملہ یہ عجیب بات ہے کہ اس زمانہ کے پادری جس قدر دوسرے مذاہب پر نکتہ چینی کرنے کے لیے اپنا وقت اور اپنا مال خرچ کر رہے ہیں اس کا کروڑواں حصہ بھی اپنے مذہب کی آزمائش اور تحقیق میں خرچ نہیں کرتے۔حالانکہ جو لوگ ایک عاجز انسان کو خدا بنا رہے ہیں اور خدائے ازلی ابدی غیر متغیر قدوس پر یہ مصیبت روا ر کھتے ہیں کہ وہ ایک عورت کے پیٹ میں نو مہینہ تک بچہ بن کر رہا اور خون حیض کھاتا رہا اور انسانوں کی طرح ایک گندے راہ سے پیدا ہوا۔اور پکڑا گیا اور صلیب پر کھینچا گیا، ایسے قابل شرم اعتقاد والوں کو چاہیے تھا کہ کفارہ کا ایک جھوٹا منصوبہ پیش کرنے سے پہلے اس قابلِ رحم انسان کی خدائی ثابت کرتے اور پھر دوسرے لوگوں کو اُس عجیب خدا کی طرف بلاتے۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ ان لوگوں کو اپنے مذہب کا ذرہ بھی فکر نہیں۔تھوڑے دن ہوئے ہیں کہ ایک پر چہ امریکن مشن پر لیس لو دھیا نہ میں سے پنجاب دلیجس بک سوسائٹی کی کارروائیوں کے واسطے ایم وایلی مینجر کے اہتمام سے نکلا ہے۔جس کی سُرخی یہ ہے۔وہ گر و جوانسان کو خدا کا فرزند بنادیتا ہے۔اس پر چہ میں سکھ صاحبوں پر حملہ کرنے کے لیے آد گر نتھ کا یہ شعر ابتدائی تقریر میں لکھا ہے۔جے سوچا ندا اوگویں سورج چڑھے ہزار ایتے چانن ہند یاں گر بن گھور اندھار یعنی اگر تو چاند نکلے اور ہزار سُورج طلوع کرے تو اتنی روشنی ہونے پر بھی گورو یعنی مُرشد اور ہادی کے بغیر سخت اندھیرا ہے۔پھر اس کے بعد لکھا ہے کہ افسوس ہمارے سکھ بھائی ناحق دس بادشاہیوں کو گورو مان بیٹھے ہیں اور اس ست گورو کو نہیں ڈھونڈتے جو منش کو دیوتا بنا سکتا ہے۔پھر آگے لکھتا ہے کہ وہ ست گورو یسوع مسیح ہے جس نے اپنی جان قربان کی اور گہنگاروں کے بدلے آپ لعنتی ہوا۔اس کے ماننے سے لوگ گناہوں سے پاک ہو جاتے ہیں۔اور پھر سکھ صاحبوں کو مخاطب کر