مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 62
مجموعہ اشتہارات ۶۲ جلد دوم بے اصل خیال دل میں جمالیا میں آپ کو بطور نصیحت کہتا ہوں کہ گو آپ کی گورنمنٹ سے کیسی ہی محبت اور الفت کے تعلقات ہوں تاہم ضرور افتراؤں سے ڈرا کریں کہ یہ باتیں جو آپ کے منہ سے نکلتی ہیں آپ کے لیے سخت خطر ناک ہیں۔میں گورنمنٹ عالیہ انگریزی کا دل سے خیر خواہ ہوں اور وہ خیر خواہی جو مال اور جان اور قلم سے مجھ سے اور میرے بزرگوں سے گورنمنٹ ممدوحہ کی نسبت ظہور میں آئی ، اگر آپ کے وجود اور آپ کے بزرگوں کے وجود میں کوئی شخص اس کا نمونہ تلاش کرنا چاہے تو تضیع اوقات ہے۔اس سے زیادہ اور کیا خیر خواہی ہوگی کہ میں سچے دل سے نہ منافقانہ طور پر اس گورنمنٹ کی نسبت بغاوت کا خیال بھی دل میں لانا گناہ سمجھتا ہوں اور اس بات کو فرض جانتا ہوں کہ اس کی شکر گذاری کی جائے۔اور اس کی خدمت گزاری میں قصور نہ کریں اور اس کی اطاعت میں دریغ نہ کریں۔اور میں آپ کی طرح کسی خونی مہدی کا منتظر بھی نہیں تا گورنمنٹ کی نظر میں میرے اصول خطرناک ہوں۔آپ لوگ جو دلوں میں خیالات رکھتے ہیں اس دانا گورنمنٹ پر پوشیدہ نہیں۔آپ لوگوں کے عقیدے کچھ چھپے ہوئے نہیں۔مگر میں تو ایسے عقیدہ پر لعنت بھیجتا ہوں کہ کسی وقت بھی اس محسن گورنمنٹ کی نسبت کوئی بغاوت کا ارادہ مخفی طور پر بھی دل میں رکھا جاوے۔کئی ہزار روپیہ کی کتا بیں اس غرض کے لیے شائع کر چکا ہوں کہ تا لوگ اس غلطی سے بچ جائیں کہ ناحق اس گورنمنٹ کو غیر مذہب کی گورنمنٹ تصور کر کے درندگی اور خونخواری کے خیالات ظاہر کریں اور ہر وقت یہی چاہتا ہوں کہ مسلمانوں کے دلوں میں کچی محبت اس گورنمنٹ کی پیدا ہو۔بیشک میں جیسا کہ میرے خدا نے میرے پر ظاہر کیا صرف اسلام کو دنیا میں سچا مذہب سمجھتا ہوں، لیکن اسلام کی کچی پابندی اسی میں دیکھتا ہوں کہ ایسی گورنمنٹ جو در حقیقت محسن اور مسلمانوں کے خون اور آبرو کی محافظ ہے اس کی سچی اطاعت کی جائے میں گورنمنٹ سے ان باتوں کے ذریعہ سے کوئی انعام نہیں چاہتا۔میں اُس سے درخواست نوٹ۔میں نے صدہا کتابیں جہاد کے مخالف تحریر کر کے عرب اور مصر اور بلادشام اور افغانستان میں گورنمنٹ کی تائید میں شائع کیں ہیں۔کیا آپ نے بھی ان ملکوں میں کوئی ایسی کتاب شائع کی۔باوجود اس کے میری یہ خواہش نہیں کہ اس خدمت گزاری کی گورنمنٹ کو اطلاع کروں یا اس سے کچھ صلہ مانگوں جو انصاف کی روسے اعتقاد تھا وہ ظاہر کر دیا۔منہ