مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 60 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 60

مجموعہ اشتہارات جلد دوم صرف یہ خواہش ہے کہ آپ سادگی اور نیک نیتی سے ہماری اس تحریر کو قبول کر کے جلد کام میں لگ جائیں کہ عمر کا اعتبار نہیں۔اب ایسا ہی ہوگا کہ یہ درخواست ہماری یا ہمارے گروہ کی کسی شخص کی طرف سے گورنمنٹ میں بھیجی نہیں جائے گی اور ہماری جماعت کا اس میں کچھ دخل نہیں ہو گا۔آپ کا دعویٰ ہے کہ ایسے کاموں کے لیے میرے اوقات وقف ہیں اور گورنمنٹ سے میرے محکم تعلقات ہیں۔سو ہمیں اس روز بہت خوشی ہوگی جب آپ کا یہ قول مقرونِ عمل سمجھا جائے گا اور اس سے زیادہ اس دن جب آپ کی یہ محنت حسب مراد پھل لائے گی۔اب جہاں تک الفاظ تھے میں اپنی بے تعلقی اور اپنی جماعت کی بے تعلقی کے اظہار میں ادا کر چکا۔باقی رہا آپ کا اپنی اس تحریر میں بھی مجھے دجال کہنا، شیطان اور کافر کے نام سے موسوم کرنا۔سومیں اس وقت ان باتوں کا جواب دینا نہیں چاہتا اور نہ ختی کے مقابل پرسختی کرنا چاہتا ہوں۔کیونکہ میں نے یہ خطا محض جناب مقدس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بقیہ حاشیہ۔شروع کر دیں۔یہ لطف ونرمی اور مدارات کا وقت ہے۔ایسا نہ ہو کہ کوئی شخص ہماری عداوت کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید میں دریغ کرے۔ہماری سب عزتیں اللہ اور رسول کے راہ میں قربان ہیں۔اگر کسی نے ہمیں دجال کہا یا شیطان کہایا کا فر کہا تو اگر ہم فی الحقیقت ایسے ہی ہیں تو ایسے شخص کو ثواب کا مستحق سمجھنا چاہیے لیکن اگر اس عالم الغیب کے نزدیک جس کی دلوں پر نظر ہے، اصلی واقعات اس کے برخلاف ہیں تو وہ ایسے شخص کو جو مومن کو ذلیل کرنا چاہتا ہے اور اپنے معاندانہ اصرار سے باز نہیں آتا ، بے سزا نہیں چھوڑے گا۔بیشک ریا کار شیطانی اغراض والے جو اپنے تئیں نیک اور اہل اللہ ظاہر کرتے ہیں۔اور اپنے کاموں میں دجل اور تکلمیس رکھتے ہیں عند اللہ کتوں سے بدتر ہیں اور ان کا انجام بُرا ہوتا ہے کیونکہ وہ ضلالت کو شائع کرنا چاہتے ہیں۔لیکن دراصل کوئی ایسا نہ ہوا اور صرف سمجھوں کا پھیر ہو تو کیا خدائے کریم اس کو ضائع کر دے گا، ہرگز نہیں بلکہ جو حالات کسی شخص کے اس غیب دان کے نزدیک محقق ہیں وہ انہیں کے لحاظ سے اس کے ساتھ معاملہ کریگا۔کیونکہ انجام کار ان کے لیے ہے جو اس کے ہیں۔سو یہ باتیں اس وقت تذکرہ کے لائق نہیں۔صرف ہم مولوی صاحب کی خدمت میں یہ التماس کرتے ہیں کہ اپنی کسل اور غفلت سے ہماری اس تمام کارروائی کو مسمار نہ کر دیں بلکہ سارے دل اور ساری جان سے کوشش کریں تا اسی نام کے لائق ٹھہر میں جس نام کے حاصل کرنے کا انہوں نے ارادہ کیا ہے اور اس سے ڈریں کہ انجام کار منصف لوگ ان کا کوئی اور نام نہ رکھ دیں۔وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى - منه