مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 48 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 48

مجموعہ اشتہارات ۴۸ جلد دوم میں کوئی مصلح نہیں گذرا اس لئے کہ گذشتہ نبیوں کی نسبت خاص کر اگر وہ اسرائیلی ہوں ایک مسلمان ہرگز بدزبانی نہیں کر سکتا بلکہ اسرائیلی نبیوں پر تو وہ ایسا ہی ایمان رکھتا ہے جیسا کہ نبی آخر الزمان کی نبوت پر۔تو اس صورت میں وہ گالی کا گالی کے ساتھ مقابلہ نہیں کر سکتا۔ہاں جب بہت دکھ اٹھاتا ہے تو قانون کی رو سے چارہ جوئی کرنا چاہتا ہے مگر قانونی تدارک بد نیتی کے ثابت کرنے پر موقوف ہے جس کا ثابت کرنا موجودہ قانون کی رو سے بہت مشکل امر ہے لہذا ایسا مستغیث اکثر ناکام رہتا ہے اور مخالف فتح یاب کو اور بھی تو ہین اور تحقیر کا موقعہ ملتا ہے اس لئے یہ بات بالکل سچی ہے کہ جس قدر تقریروں اور تحریروں کی رو سے مذہب اسلام کی توہین ہوتی ہے ابھی تک اس کا کوئی کافی تدارک قانون میں موجود نہیں۔اور دفعہ ۲۹۸ حق الامر کے ثابت کرنے کے لئے کوئی ایسا معیار اپنے ساتھ نہیں رکھتی جس سے صفائی کے ساتھ نیک نیتی اور بدنیتی میں تمیز ہو جائے یہی سبب ہے کہ نیک نیتی کے بہانہ سے ایسی دل آزار کتابوں کی کروڑوں تک نوبت پہنچ گئی ہے لہذا ان شرائط کا ہونا ضروری ہے جو واقعی حقیقت کے کھلنے کے لئے بطور مؤید ہوں اور صحت نیت اور عدم صحت کے پر کھنے کے لئے بطور معیار کے ہوسکیں سو وہ معیار وہ دونو شرطیں ہیں جو او پر گذارش کر دی گئی ہیں۔کیونکہ کچھ شک نہیں کہ جو شخص کوئی ایسا اعتراض کسی فریق پر کرتا ہے جو وہی اعتراض اس پر بھی اس کی الہامی کتابوں کی رو سے ہوتا ہے یا ایسا اعتراض کرتا ہے جو ان کتابوں میں نہیں پایا جا تا جن کو فریق معترض علیہ نے اپنی مسلمہ مقبولہ کتا بیں قرار دے کر ان کے بارے میں اپنے مذہبی مخالفوں کو بذریعہ کسی چھپے ہوئے اشتہار کے مطلع کر دیا ہے تو بلا شبہ ثابت ہو جاتا ہے کہ شخص معترض نے صحت نیت کو چھوڑ دیا ہے تو اس صورت میں ایسے مکار اور فریبی لوگ جن حیلوں اور تاویلوں سے اپنی بد نیتی کو چھپانا چاہتے ہیں وہ تمام حیلے نکھے ہو جاتے ہیں اور بڑی سہولت سے حکام پر اصل حقیقت کھل جاتی ہے اور اگر چہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ یاوہ گو لوگوں کی زبانیں روکنے کے لئے یہ ایک کامل علاج ہے مگر اس میں بھی کچھ شک نہیں کہ بہت کچھ یاوہ گوئیوں اور ناحق کے الزاموں کا اس سے علاج ہو جائے گا۔