مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 47
مجموعہ اشتہارات ۴۷ جلد دوم ان کتابوں کی بناء پر نہ ہو جن کو کسی فریق نے اپنی مسلم اور مقبول کتابیں ٹھہرا کر ان کی ایک چھپی ہوئی فہرست اپنے ایک کھلے کھلے اعلان کے ساتھ شائع کرادی ہوا اور صاف اشتہار دید یا ہو کہ یہی وہ کتا بیں ہیں جن پر میرا عقیدہ ہے اور جو میری مذہبی کتابیں ہیں سو ہم تمام درخواست کنندوں کی التماس یہ ہے کہ ان دونوں شرطوں کے بارے میں ایک قانون پاس ہو کر اس کی خلاف ورزی کو ایک مجرمانہ حرکت قرار دیا جاوے اور ایسے تمام مجرم دفعہ ۲۹۸ تعزیرات ہند یا جس دفعہ کی رو سے سرکار مناسب سمجھے سزا یاب ہوتے رہیں۔اور جن ضرورتوں کی بناء پر ہم رعایا سرکار انگریزی کی اس درخواست کے لئے مجبور ہوئے ہیں وہ تفصیل ذیل ہیں۔اول یہ کہ ان دنوں میں مذہبی مباحثوں کے متعلق سلسلہ تقریروں اور تحریروں کا اس قدر ترقی پذیر ہو گیا ہے اور ساتھ ہی اس کے اس قد رسخت بدزبانیوں نے ترقی کی ہے کہ دن بدن با ہمی کینے بڑھتے جاتے ہیں اور ایک زور کے ساتھ بخش گوئی اور ٹھٹھے اور ہنسی کا دریا بہہ رہا ہے اور چونکہ اہل اسلام اپنے برگزیدہ نبی اور اس مقدس کتاب کے لئے جو اس پاک نبی کی معرفت ان کو ملی نہایت غیرت مند ہیں لہذا جو کچھ دوسری قو میں طرح طرح کے مفتر یا نہ الفاظ اور رنگارنگ کی پر خیانت تحریر اور تقریر سے ان کے نبی اور ان کی آسمانی کتاب کی توہین سے ان کے دل دُکھا رہے ہیں یہ ایک ایسا زخم ان کے دلوں پر ہے کہ شاید ان کیلئے اس تکلیف کے برابر دنیا میں اور کوئی بھی تکلیف نہ ہو اور اسلامی اصول ایسے مہذبانہ ہیں کہ یاوہ گوئی کے مقابل پر مسلمانوں کو یاوہ گوئی سے روکتے ہیں مثلاً ایک معترض جب ایک بے جا الزام مسلمانوں کے نبی علیہ السلام پر کرتا ہے اور ٹھٹھے اور ہنسی اور ایسے الفاظ سے پیش آتا ہے جو بسا اوقات گالیوں کی حد تک پہنچ جاتے ہیں تو اہل اسلام اس کے مقابل پر اس کے پیغمبر اور مقتدا کو کچھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ اگر وہ پیغمبر اسرائیلی نبیوں میں سے ہے تو ہر یک مسلمان اُس نبی سے ایسا ہی پیار کرتا ہے جیسا کہ اس کا فریق مخالف وجہ یہ کہ مسلمان تمام اسرائیلی نبیوں پر ایمان رکھتے ہیں اور دوسری قوموں کی نسبت بھی وہ جلدی نہیں کرتے کیونکہ انہیں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ کوئی ایسا آباد ملک نہیں جس