مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 600 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 600

مجموعہ اشتہارات ۶۰۰ جلد دوم ہے یہ ایک ایسا امر ہے جو اس شخص کی اس میں صریح ذلّت ہے جو اس کے برخلاف میرے لئے چاہتا تھا۔ہاں میاں ثناء اللہ کے تین اعتراض اور باقی ہیں اور وہ یہ کہ وہ پر چہ اخبار عام میں یہ کہتا ہے کہ محمد حسین کو چار مربع زمین مل گئی ہے اور کسی ریاست میں اس کا کچھ وظیفہ مقرر ہو گیا ہے۔اور مسٹر جے ایم ڈوئی صاحب نے اس کی منشاء کے موافق مقدمہ کیا ہے۔“ تیسرے اعتراض کے جواب کی کچھ ضرورت نہیں کیونکہ ابھی ہم لکھ چکے ہیں کہ یہ دعوی تو سراسر ترک حیا ہے کہ ایسا خیال کیا جائے کہ محمد حسین کی منشاء کے موافق مقدمہ ہوا ہے۔خود محمد حسین کو قسم دے کر پوچھنا چاہیے کہ اس کا منشاء تھا کہ آئندہ وہ کافر اور دجال اور کاذب کہنے سے باز آ جائے اور کیا اس کا یہ منشاء تھا کہ آئندہ گالیوں اور مخش کہنے اور کہانے سے باز آ جائے؟ پھر کون منصف اور صاحب حیا کہہ سکتا ہے کہ یہ مقدمہ محمد حسین کی منشاء کے موافق ہوا۔ہاں اگر یہ اعتراض ہو کہ ہمیں بھی آئندہ موت اور ذلت کی پیشگوئی کرنے سے روکا گیا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ یہ ہماری کارروائی خود اُس وقت سے پہلے ختم ہو چکی تھی کہ جب ڈوئی صاحب کے نوٹس میں ایسا لکھا گیا بلکہ ہم اپنے رسالہ انجام آتھم میں بتفریح لکھ چکے ہیں کہ ہم ان لوگوں کو آئیندہ مخاطب کرنا بھی نہیں چاہتے جب تک یہ ہمیں مخاطب نہ کریں اور ہم بدل بیزار اور متنفر ہیں کہ ان لوگوں کا نام بھی لیں چہ جائیکہ ان کے حق میں پیشگوئی کر کے اسی قدر خطاب سے ان کو کچھ عزت دیں۔ہمارا مدعا تین فرقوں کی نسبت تین پیشگوئیاں تھیں۔سو ہم اپنے اس مدعا کو پورا کر چکے۔اب کچھ بھی ہمیں ضرورت نہیں کہ ان لوگوں کی موت اور ذلت کی نسبت پیشگوئی کریں اور یہ الزام کہ آئیندہ عموماً الہامات کی اشاعت کرنے اور ہرقسم کی پیشگوئیوں سے روکا گیا ہے یہ ان لوگوں کی باتیں ہیں جو وعید لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ میں داخل ہیں۔اب بھی ہم اس مقدمہ کے بعد بہت سی پیشگوئیاں شائع کر چکے ہیں پس یہ کیسا گندہ جھوٹ ہے کہ یہ لوگ بے خبر لوگوں کے پاس بیان کر رہے ہیں۔رہا یہ سوال کہ محمد حسین کو کچھ زمین مل گئی ہے یعنی بجائے ذلت کے عزت ہوگئی ہے یہ نہایت بیہودہ خیال ہے بلکہ یہ اُس وقت اعتراض کرنا چاہیے تھا کہ جب اس زمین سے محمد حسین کچھ منفعت اُٹھا لیتا۔ابھی تو وہ ایک ابتلا کے نیچے ہے کچھ معلوم نہیں کہ اس زمین سے انجام کار کچھ زیر باری ہوگی