مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 599 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 599

مجموعہ اشتہارات ۵۹۹ جلد دوم مدت ہوئی کہ ہمیں ان تمام مولویوں سے ترک ملاقات ہے ہمیں کچھ بھی معلوم نہیں کہ یہ لوگ اپنی بے عزتی کسی حد کی ذلت میں خیال کرتے ہیں اور کسی حد کی ذلت کو ہضم کر جاتے ہیں۔میاں ثناء اللہ کو اعتراض کرنے کا بے شک حق ہے مگر ہم جواب دینے سے معذور ہیں جب تک وہ کھول کر بیان نہ کریں کہ بے عزتی تب ہوتی تھی جب ایسا ظہور میں آتا۔ہم قبول کرتے ہیں کہ انسانوں کی مختلف طبقوں کے لحاظ سے بے عزتی بھی مختلف طور پر ہے اور ہر ایک کے لئے وجوہ ذلت کے جدا جدا ہیں لیکن ہمیں کیا خبر ہے کہ آپ لوگوں نے مولوی محمد حسین کو کس طبقہ کا انسان قرار دیا ہے اور اس کی ذلت کن امور میں تصویر فرمائی ہے۔ہماری دانست میں تو میاں ثناء اللہ کو مولوی محمد حسین صاحب سے کوئی پوشیدہ کینہ ہے کہ وہ اب تک ان کی اس درجہ کی ذلت پر راضی نہیں ہوئے جو شریفوں اور معززوں اور اہل علم کے لئے کافی ہے۔یہ تو ظاہر ہے کہ دنیا میں ذلت تین قسم کی ہوتی ہے ایک تو جسمانی ذلت جس کے اکثر جرائم پیشہ تختہ مشق ہوتے رہتے ہیں۔دوسرے اخلاقی ذلّت۔یہ تب ہوتی ہے جبکہ کسی کی اخلاقی حالت نہایت گندی ثابت ہو اور اس پر اس کو سرزنش ہو۔تیسرے علمی پردہ دری کی ذلت جس سے عالمانہ حیثیت خاک میں ملتی ہے۔اب ظاہر ہے کہ اخلاقی ذلت ظہور میں آ چکی ہے۔اگر کسی کو شک ہے تو اس مثل کو ملاحظہ کرے جو مسٹر جے ایم ڈوئی صاحب کی عدالت میں طیار ہوئی ہے۔ایسا ہی عالمانہ حیثیت کی ذلت ظہور میں آچکی اور عجبت کے صلہ پر جو اعتراض محمد حسین صاحب نے کیا ہے اور پھر جو ڈسچارج کا ترجمہ کرتے ہوئے آپ نے فرمایا ہے کہ ڈسچارج کا ترجمہ بری نہیں ہے۔ان دونوں اعتراضوں سے صاف طور پر کھل گیا کہ علاوہ کمالات نحو دانی اور حدیث دانی کے آپ کو قانون انگریزی میں بھی کچھ دخل ہے اور یادر ہے کہ دشمن کی ذلت ایک قسم کی یہ بھی ہوتی ہے کہ اس کے مخالف کو جس کے ذلیل کرنے کے لئے ہر دم تدبیریں کرتا اور طرح طرح کے مکر استعمال میں لاتا ہے خدا تعالیٰ کی طرف سے عزت مل جائے۔سو اس قسم کی ذلت بھی ظاہر ہے کیونکہ ڈوئی صاحب کے مقدمہ کے بعد جو کچھ خدا تعالیٰ کے فضل اور کرم نے میری طرف ایک دُنیا کو رجوع دیا اور دے رہا