مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 598 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 598

مجموعه اشتہارات ۵۹۸ جلد دوم چماروں اور ساہنسیوں میں سے ایسے ہوتے ہیں کہ جو جیل خانہ میں جاتے ہیں اور چوتڑوں پر بید بھی کھاتے ہیں اور با ایں ہمہ کبھی نہیں سمجھتے کہ ہماری عزت میں کچھ بھی فرق آیا ہے بلکہ جیل میں ہنستے رہتے اور گاتے رہتے ہیں گویا ایک نشے میں ہیں۔اب چونکہ عزتیں کئی قسم کی اور ذلتیں بھی کئی قسم کی ہیں اس لئے یہ بات میاں ثناء اللہ سے پوچھنے کے لایق ہے کہ وہ کس امر کو شیخ محمد حسین کی ذلت قرار دیتے ہیں۔اور اگر اتنی قابل شرم باتوں میں سے جو بیچارے محمد حسین کو پیش آئیں اب تک اس کی کچھ بھی ذلت نہیں ہوئی تو ہمیں سمجھا دیں کہ وہ کونسی صورت تھی جس سے اس کی ذلت ہو سکتی اور بیان فرما دیں کہ جو مولوی محمدحسین جیسی شان اور عزت کا آدمی ہو اس کی ذلت کس قسم کی بے عزتی میں متصور ہے۔اب تک تو ہم یہی سمجھے بیٹھے تھے کہ شریف اور معزز انسانوں کی عزت نہایت نازک ہوتی ہے اور تھوڑی سی کسر شان سے عزت میں فرق آ جاتا ہے۔مگر اب میاں ثناء اللہ صاحب کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ ان تمام قابل شرم امور سے مولوی صاحب موصوف کی عزت میں کچھ بھی فرق نہیں آیا۔پس اس صورت میں ہم اس انکار کا کچھ بھی جواب نہیں دے سکتے جب تک کہ میاں ثناء اللہ کھول کر ہمیں نہ بتلاویں کہ کس قسم کی ذلت ہونی چاہیے تھی جس سے موحدین کے اس ایڈوکیٹ کی عزت میں فرق آجاتا۔اگر وہ معقول طور پر ہمیں سمجھا دیں گے کہ شریفوں اور معزز وں اور ایسے نامی علماء کی ذلت اس قسم کی ہونی ضروری ہے تو اس صورت میں اگر ہماری پیشگوئی کے رو سے وہ خاص ذلّت نہیں پہنچی جو پہنچنی چاہیے تھی تو ہم اقرار کر دیں گے کہ ابھی پیشگوئی پورے طور پر ظہور میں نہیں آئی۔لیکن اب تک تو ہم مولوی محمد حسین کی عالمانہ حیثیت پر نظر کر کے یہی سمجھتے ہیں کہ پیشگوئی ان کی حیثیت کے مطابق اور نیز الہامی شرط کے مطابق پورے طور پر ظہور میں آچکی۔لے الہامی شرط یہ تھی کہ محمدحسین اور اس کے دور فیقوں کی ذلت صرف اسی قسم کی ہوگی جس قسم کی ذلت انہوں نے پہنچائی تھی جیسا کہ الہام مندرجہ اشتہا ر۲۱ نومبر ۱۸۹۸ء کے اس فقرہ سے ظاہر ہے کہ جَزَاءُ سَيِّئَةٍ بِمِثْلِهَا وَ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ۔پس الہامی شرط کو نظر انداز کر کے اعتراض اُٹھانا نا دان متعصبوں کا کام ہے نہ عقلمندوں اور منصفوں کا۔منہ