مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 595 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 595

مجموعہ اشتہارات ۵۹۵ جلد دوم مستور الحال شریفوں کی طرح زندگی بسر کرتا ہو اور صرف یہ کسر ہو کہ ابھی اس نے بے قصور ہونا عدالت میں حاضر ہو کر ثابت نہیں کیا حالانکہ ایسا سمجھنا صریح باطل ہے اور اس سے تمام تعلیم قرآن شریف کی زیر و زبر ہو جاتی ہے کیونکہ اس صورت میں جائز ہوگا کہ جولوگ مثلاً ایسی مستور الحال عورتوں پر زنا کی تہمت لگاتے ہیں جنہوں نے عدالت میں حاضر ہو کر اس بات کا ثبوت نہیں دیا کہ وہ ہر قسم کی بدکاری سے مدت العمر سے محفوظ رہی ہیں وہ کچھ گناہ نہیں کرتے اور اُن کو روا ہے کہ مستور الحال عورتوں پر ایسی تہمتیں لگایا کریں حالانکہ ایسا خیال کرنا اس مندرجہ ذیل آیت کی رو سے صریح حرام اور معصیت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَالَّذِيْنَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَنِيْنَ جَلْدَةٌ لے یعنی جو لوگ ایسی عورتوں پر زنا کی تہمت لگاتے ہیں جن کا زنا کا ر ہونا ثابت نہیں ہے بلکہ مستور الحال ہیں اگر وہ لوگ چار گواہ سے اپنے اس الزام کو ثابت نہ کریں تو اُن کو اسی درّے مارنے چاہیں۔اب دیکھو کہ ان عورتوں کا نام خدا نے بری رکھا ہے جن کا زانیہ ہونا ثابت نہیں۔پس بَری کے لفظ کی یہ تشریح بعینہ ڈسچارج کے مفہوم سے مطابق ہے کیونکہ اگر بَری کا لفظ جو قرآن نے آیات يَرُمِ بِهِ بَرِيئًا میں استعمال کیا ہے صرف ایسی صورت پر بولا جاتا ہے کہ جبکہ کسی کو مجرم ٹھہرا کر اس پر فرد قرارداد مجرم لگائی جائے اور پھر وہ گواہوں کی شہادت سے اپنی صفائی ثابت کرے اور استغاثہ کا ثبوت ڈیفنس کے ثبوت سے ٹوٹ جائے تو اس صورت میں ہر ایک شریر کو آزادی ہو گی کہ ایسی تمام عورتوں پر زنا کا الزام لگا وے جنہوں نے متعمد گواہوں کے ذریعہ سے عدالت میں ثابت نہیں کر دیا کہ وہ زانیہ نہیں ہیں خواہ وہ رسولوں اور نبیوں کی عورتیں ہوں اور خواہ صحابہ کی اور خواہ اولیاء اللہ کی اور خواہ اہل بیت کی عورتیں ہوں اور ظاہر ہے کہ آیت يَرم به بَرِيعا میں بَری کے لفظ کے ایسے معنے کرنے صاف الحاد ہے جو ہرگز خدا تعالیٰ کا منشاء نہیں ہے بلکہ بدیہی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت میں بری کے لفظ سے خدا تعالیٰ کا یہی منشاء ہے کہ جو النور : ۵