مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 588
مجموعه اشتہارات ۵۸۸ جلد دوم ہوں جو حق اور راستی سے منحرف ہے لیکن میں کسی کلمہ گو کا نام کا فر نہیں رکھتا جب تک وہ میری تکفیر اور تکذیب کر کے اپنے تئیں خود کا فرنہ بنا لیوے۔ سو اس معاملہ میں ہمیشہ سے سبقت میرے مخالفوں کی طرف سے ہے کہ انہوں نے مجھ کو کافر کہا۔ میرے لئے فتویٰ طیار کیا۔ میں نے سبقت کر کے ان کے لئے کوئی فتوی طیار نہیں کیا اور اس بات کا وہ خود اقرار کر سکتے ہیں کہ اگر میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک مسلمان ہوں تو مجھ کو کافر بنانے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فتوئی ان پر یہی ہے کہ وہ بقیہ حاشیہ۔ اس کے پاس رہ جاتی ہے اور جو نیک بندوں کی خدا تعالیٰ کی طرف نسبت انس اور شوق اور ذوق اور محبت اور تقتل اور تقویٰ کی ہوتی ہے وہ اس سے کھوئی جاتی ہے اور وہ خود محسوس کرتا ہے کہ ایام موجودہ سے دس سال پہلے جو کچھ اس کو رقت اور انشراح اور بسط اور خدا کی طرف جھکنے اور دنیا اور اہل دنیا سے بیزاری کی حالت میں دل میں موجود تھی اور جس طرح سچے زہد کی چمک کبھی کبھی اس کو آگاہ کرتی تھی کہ وہ خدا کے عباد صالحین میں سے ہو سکتا ہے اب وہ چمک بکلی اس کے اندر سے جاتی رہی ہے۔ اور دنیا طلبی کی ایک آگ اس کے اندر بھڑک اُٹھتی ہے اور انکار اہل اللہ کی شامت سے اس کو یہ بھی خیال نہیں آتا کہ جس زمانہ میں اس کے خیال نیک اور پاک اور زاہد نہ تھے اب اس زمانہ کی نسبت اس کی عمر بہت زیادہ ہوگئی ہے۔ غرض اس کو کچھ سمجھ نہیں آتا کہ مجھ کو کیا ہو گیا اور دنیا طلبی میں گرا جاتا اور دنیا کا جاہ ڈھونڈتا ہے حالانکہ موت کے قریب ہوتا ہے۔ غرض اسی طرح ایمان کا نور اس کے دل سے چھین لیتے ہیں اور اولیاء اللہ کی اء اللہ کی عداوت سے دوسرا سبب سلب ایمان کا یہ بھی ہو جاتا ہے کہ وہ اُس ولی اللہ کی ہر حالت میں مخالفت کرتا رہتا ہے جو سر چشمہ نبوت سے پانی پیتا ہے جس کو سچائی پر قائم کیا جاتا ہے سو چونکہ اس کی عادت ہو جاتی ہے کہ خواہ مخواہ ہر ایک ایسی سچائی کو رڈ کرتا ہے جو اس ولی کے منہ سے نکلتی ہے۔ اور جس قدر اس کے تائید میں نشان ظاہر ہوتے ہیں یہ خیال کر لیتا ہے کہ ایسا ہونا جھوٹوں سے ممکن ہے اس لئے رفتہ رفتہ سلسلہ نبوت بھی اس پر مشتبہ ہو جاتا ہے۔ لہذا انجام کار اس مخالفت کے پردہ میں اس کی ایمانی عمارت کی اینٹیں گرنی شروع ہو جاتی ہیں یہاں تک کہ کسی دن کسی ایسے عظیم الشان مسئلہ کی مخالفت یا نشان کا انکار کر بیٹھتا ہے جس سے ایمان جاتا رہتا ہے۔ ہاں اگر کسی کا کوئی سابق نیک عمل ہو جو حضرت احدیت میں محفوظ ہو تو ممکن ہے کہ آخر کار عنایت از لی اس کو تھام لے اور وہ رات کو یا دن کو یک دفعہ اپنی حالت کا مطالعہ کرے یا بعض ایسے امور اس کی آنکھ روشن کرنے کے لئے پیدا ہو جائیں جن سے یکدفعہ وہ خواب غفلت سے جاگ اُٹھے ۔ وَ ذَالِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ - منه