مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 587
مجموعه اشتہارات ۵۸۷ جلد دوم میرے پر کچھ الزام نہیں آتا اور نہ ایسے دستخط میری ذلت کا موجب ٹھہرتے ہیں کیونکہ ابتدا سے میرا یہی مذہب ہے کہ میرے دعوے کے انکار کی وجہ سے کوئی شخص کا فریا دجال نہیں ہو سکتا ۔ ہاں ضال اور جادہ صواب سے منحرف ضرور ہو گا اور میں اس کا نام بے ایمان نہیں رکھتا ہاں میں ایسے سب لوگوں کو خال اور جادہ صدق وصواب سے دور سمجھتا ہوں جو اُن سچائیوں سے انکار کرتے ہیں جو خدا تعالیٰ نے میرے پر کھولی ہیں ۔ میں بلا شبہ ایسے ہر ایک آدمی کو ضلالت کی آلودگی سے مبتلا سمجھتا لے حاشیہ۔ یہ نکتہ یاد رکھنے کے لایق ہے کہ اپنے دعوے کے انکار کرنے والے کو کافر کہنا یہ صرف ان نبیوں کی شان ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے شریعت اور احکام جدیدہ لاتے ہیں لیکن صاحب الشریعت کے ماسوا جس قدر ملہم اور محدث ہیں گو وہ کیسی ہی جناب الہی میں اعلیٰ شان رکھتے ہوں اور خلعت مکالمہ الہیہ سے سرفراز ہوں ان کے انکار سے کوئی کا فرنہیں بن جاتا۔ ہاں بد قسمت منکر جو ان مقربان الہی کا انکار کرتا ہے وہ اپنے انکار کی شامت سے دن بدن سخت دل ہوتا جاتا ہے یہاں تک کہ نور ایمان اس کے اندر سے مفقود ہو جاتا ہے۔ اور یہی احادیث نبویہ سے مستنبط ہوتا ہے کہ انکار اولیا اور اُن سے دشمنی رکھنا اول انسان کو غفلت اور دنیا پرستی میں ڈالتا ہے اور اعمال حسنہ اور افعال صدق اور اخلاص کی ان سے توفیق چھین لیتا ہے اور پھر آخر سلپ ایمان کا موجب ہو کر دینداری کی اصل حقیقت اور مغز سے ان کو بے نصیب اور بے بہرہ کر دیتا ہے اور یہی معنے ہیں اس حدیث کے کہ مَنْ عَادَا وَلِيًّا لِّي فَقَدْ آذَنْتُهُ لِلْحَرْبِ یعنی جو میرے ولی کا دشمن بنتا ہے تو میں اس کو کہتا ہوں کہ بس اب میری لڑائی کے لئے تیار ہو جا۔ اگر چہ اوائل عداوت میں خداوند کریم و رحیم کے آگے ایسے لوگوں کی طرف سے کسی قدر عدم معرفت کا عذر ہو سکتا ہے لیکن جب اس ولی اللہ کی تائید میں چاروں طرف سے نشان ظاہر ہونے شروع ہو جاتے ہیں اور نور قلب اس کو شناخت کر لیتا ہے اور اس کی قبولیت کی شہادت آسمان اور زمین دونوں کی طرف سے یہ آواز بلند کانوں کو سُنائی دیتی ہے تو نعوذ باللہ اس حالت میں جو شخص عداوت اور عناد سے باز نہیں آتا اور طریق تقویٰ کو بکلی الوداع کہہ کر دل کو سخت کر شمر لیتا ۔ بتا ہے اور عناد اور دشمنی سے ہر وقت در پے ایذا رہتا ہے تو اس حالت میں وہ حدیث مذکورہ با ریت مذکورہ بالا کے ماتحت آ جاتا ہے۔ خدا تعالیٰ بڑا کریم و رحیم ہے وہ انسان کو جلد نہیں پکڑتا لیکن جب انسان نا انصافی اور ظلم کرتا کر تا حد سے گزر جاتا اور بہر حال اس عمارت کو گرانا چاہتا ہے اور اس باغ کو جلانا چاہتا ہے جس کو خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے طیار کیا ہے تو اس صورت میں قدیم سے اور جب سے کہ سلسلہ نبوت کی بنیاد پڑی ہے عادۃ اللہ یہی ہے کہ وہ ایسے مفسد کا دشمن ہو جاتا ہے اور سب سے پہلے دولت ایمان اس سے چھین لیتا ہے تب بلعم کی طرح صرف لفاظی اور زبانی قیل و قال