مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 584
مجموعہ اشتہارات ۵۸۴ جلد دوم عجب کا صلہ کام ہی لکھا ہے چنانچہ منجملہ ان کے ایک شعر یہ ہے کہ جو دیوان مذکور کے صفحہ 9 میں درج ہے۔عِجِبْتِ لِمَسْرَ اهَا وَ أَنَّى تَخَلَّصَتْ إِلَيَّ وَبَابُ السِّجُنِ دُونِيَ مُغْلَقُ یعنی وہ معشوقہ جو عالم تصور میں میرے پاس چلی آئی مجھے تعجب ہوا کہ وہ ایسے زندان میں جس کے دروازے بند تھے میرے پاس جو میں قید میں تھا کیونکر چلی آئی۔دیکھو اس شعر میں بھی اس بلیغ فصیح شاعر نے عَجِبُت کا صلہ کام ہی بیان کیا ہے جیسا کہ لفظ لِمَسْرَ اھا سے ظاہر ہے اور ایسا ہی وہ تمام اشعار اس دیوان کے جو صفحہ ۳۹۰ و ۱ ۴۱ و ۵۷۵ و ۵۱۱ میں درج ہیں ان سب میں عجب کا صلہ لام ہی لکھا ہے۔جیسا کہ یہ شعر ہے۔عَجِبْتُ لِسَعُيِ الدَّهُرِ بَيْنِي وَبَيْنَهَا فَلَمَّا انْقَضَىٰ مَا بَيْنَنَا سَكَنَ الدَّهُرُ یعنی مجھے اس بات سے تعجب آیا کہ زمانہ نے ہم میں جدائی ڈالنے کے لئے کیا کیا کوششیں کیں مگر جب وہ ہمارا وقت عشقبازی کا گذر گیا تو زمانہ بھی چپ ہو گیا۔اب دیکھو کہ اس شعر میں بھی عجب کا صلہ کام ہی آیا ہے اور ایسا ہی حماسہ کا یہ شعر ہے۔عَجِبْتُ لِبَرُيَّ مِنكَ يَا عِزَّ بَعْدَ مَا عُمِرُتُ زَمَانًا مِنْكَ غَيْرُ صَحِيحٍ یعنی اے معشوقہ یہ عجیب بات ہے کہ تیرے سبب سے ہی میں اچھا ہوا یعنی تیرے وصال سے اور تیرے سبب سے ہی ایک مدت دراز تک میں بیمار رہا یعنی تیری جدائی کی وجہ سے علیل رہا۔شاعر کا منشا اس شعر سے یہ ہے کہ وہ اپنی معشوقہ کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ میری بیماری کا بھی تو ہی سبب تھی اور پھر میرے اچھا ہو جانے کا بھی تو ہی سبب ہوئی۔اب دیکھو کہ اس شعر میں بھی عجب کا صلہ لام ہی آیا ہے پھر ایک اور شعر حماسہ میں ہے اور وہ یہ ہے۔عَجَبًا لَا حَمَدَ وَالْعَجَائِبُ جُمَّةٌ أَنَّى يَلُومُ عَلَى الزَّمَانِ تَبَدُّلِي یعنی مجھ کو احمد کی اس حرکت سے تعجب ہے اور عجائب پر عجائب جمع ہو رہے ہیں کیونکہ وہ