مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 582
مجموعہ اشتہارات ۵۸۲ جلد دوم فہرست اپنی ان کارروائیوں کی شائع کی جن میں گورنمنٹ کے مقاصد کی تائید ہے اور اس فہرست میں یہ جتلانا چاہا کہ منجملہ میری خدمات کے ایک یہ بھی خدمت ہے کہ میں نے اپنے رسالہ اشاعۃ السنہ میں لکھا ہے کہ مہدی کی حدیثیں صحیح نہیں ہیں اور اس فہرست کو اس نے بڑی احتیاط سے پوشیدہ طور پر شائع کیا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ قوم کے رو برواس فہرست کے برخلاف اس نے اپنا عقیدہ ظاہر کیا ہے اور اس دورنگی کے ظاہر ہونے سے وہ ڈرتا تھا کہ اپنی قوم مسلمانوں کے روبروتو اس نے یہ ظاہر کیا کہ وہ ایسے مہدی کو بدل و جان مانتا ہے کہ جو دنیا میں آ کر لڑائیاں کرے گا اور ہر ایک قوم کے مقابل پر یہاں تک کہ عیسائیوں کے مقابل پر بھی تلوار اُٹھائے گا اور پھر اس فہرست انگریزی کے ذریعہ سے گورنمنٹ پر یہ ظاہر کرنا چاہا کہ وہ خونی مہدی کے متعلق تمام حدیثوں کو مجروح اور نا قابل اعتبار جانتا ہے لیکن خدا تعالیٰ کی قدرت سے وہ پوشیدہ کا رروائی اس کی پکڑی گئی اور نہ صرف قوم کو اس سے اطلاع ہوئی بلکہ گورنمنٹ تک بھی یہ بات پہنچ گئی کہ اس نے اپنی تحریروں میں دونوں فریق گورنمنٹ اور رعایا کو دھوکا دیا ہے اور ہر ایک ادنی عقل کا انسان بھی سمجھ سکتا ہے کہ یہ پرده دری محمد حسین کی ذلت کا باعث تھی اور وہی انکار مہدی جس کی وجہ سے اس ملک کے نادان مولوی مجھے دجال اور کافر کہتے تھے۔محمد حسین کے انگریزی رسالہ سے اس کی نسبت بھی ثابت ہو گیا یعنی یہ کہ وہ بھی اپنے دل میں ایسی حدیثوں کو موضوع اور بے ہودہ اور لغو جانتا ہے۔غرض یہ ایک ایسی بقیہ حاشیہ۔اس پر کفر کی مہریں لگوائیں۔سو اس میں ہماری طرف سے کوئی اختراع نہ تھا۔اصل مادہ جو ہم دکھلانا چاہتے تھے وہ فہرست تھی جو ہمارے ہاتھ آ گئی۔اگر ہم استفتاء بھی طیار نہ کرتے تا ہم وہ فہرست محمد حسین کی ذلت کے لئے کافی تھی جس سے ثابت ہوتا تھا کہ محد حسین کا ایک منہ نہیں ہے بلکہ وہ دومنہ سے کام لیتا ہے۔اپنی قوم کے روبرو جو وہابی ہیں غازی مہدی پر ایمان ظاہر کرتا ہے۔پھر گورنمنٹ کے خوش کرنے کے لئے غازی مہدی کی حدیثوں کو مجروح اور ضعیف قرار دیتا ہے اور یہ طریق اور یہ برتاؤ یک رنگ انسانوں کا ہرگز نہیں ہوتا سو ذلت تو اس دورنگی میں تھی جو ہم نے ثابت کر دی استفتاء کا اس میں کچھ حقیقی دخل نہ تھا۔افسوس یہ لوگ نہیں سوچتے کہ استفتاء میں ہماری طرف سے کونسی خیانت تھی۔کیا استفتاء میں کسی کا نام ظاہر کرنا بھی شرط ہے۔منہ