مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 580 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 580

مجموعه اشتہارات ۵۸۰ جلد دوم میں ذلت کا وعدہ تھا وہ اب تک ظہور میں نہیں آیا۔ چنانچہ ان میں سے ایک صاحب ثناء اللہ نام امرت سری نے بھی پرچہ اخبار عام نومبر ۱۸۹۹ء میں اعتراض پیش کیا ہے۔ اور چونکہ ان مولویوں کی یہ عادت ہے کہ ایک خلاف واقعہ بات پر جم کر پھر ہزاروں انسانوں کو وہی سبق دیتے ہیں اور اس طرح پر ایک شخص کی غلط فہمی ہزاروں انسانوں کو غلطی میں ڈالتی ہے۔ لہذا میں نے قرین مصلحت سمجھا کہ وہ پیشگوئی مع تمام اس کے لوازم کے تحریر کر کے پبلک کے سامنے رکھوں تا لوگ خود انصاف کر لیں کہ آیا وہ پیشگوئی پوری ہو گئی یا کچھ کسر باقی ہے۔ اس لئے ہم ذیل میں مبسوط طور پر اول سے آخر تک اس کو لکھتے ہیں ۔ سو واضح ہو کہ مولوی محمد حسین بٹالوی ایڈیٹر اشاعۃ السنہ نے میرے ذلیل کرنے کی غرض سے تمام لوگوں میں مشہور کیا تھا کہ یہ شخص مہدی معہود اور مسیح موعود سے منکر ہے اس لئے بے دین اور کافر اور دجال ہے بلکہ اسی غرض سے ایک استفتاء لکھا تھا اور علماء ہندوستان اور پنجاب کی اس پر مہریں مثبت کرائیں تھیں تا عوام مسلمان مجھ کو کافر سمجھ لیں ۔ اور پھر اسی پر بس نہ کیا بلکہ گورنمنٹ تک خلاف واقعہ یہ شکایتیں پہنچائیں کہ یہ شخص گورنمنٹ انگریزی کا بدخواہ اور بغاوت کے خیالات رکھتا ہے اور عوام کے بیزار کرنے کے لئے یہ بھی جا بجا مشہور کیا کہ یہ شخص جاہل اور علم عربی سے بے بہرہ ہے اور ان تینوں قسم کے جھوٹ کے استعمال سے اس کی غرض یہ تھی کہ تا عوام مسلمان مجھ پر بدظن ہو کر مجھے کا فر خیال کریں اور ساتھ ہی یہ بھی یقین کر لیں کہ یہ شخص در حقیقت علم عربی سے بے بہرہ ہے اور نیز گورنمنٹ بدظن ہو کر مجھے باغی قرار دے یا اپنا بد خواہ تصور کرے ۔ جب محمد حسین کی بداندیشی اس حد تک پہنچی کہ اپنی زبان سے بھی میری ذلت کی اور لوگوں کو بھی خلاف واقعہ تکفیر سے جوش دلایا اور گورنمنٹ کو بھی جھوٹی مخبریوں سے دھو کہ دینا چاہا اور یہ ارادہ کیا کہ وجوہ متذکرہ بالا کو عوام اور گورنمنٹ کے دل میں جما کر میری ذلت کرا دے تب میں نے اس کی نسبت اور اس کے دو دوستوں کی نسبت جو محمد بخش جعفر زٹلی اور ابوالحسن تبتی ہیں وہ بدعا کی جو اشتہا ر ۲۱ رنومبر ۱۸۹۸ء میں درج ہے اور جیسا کہ اشتہار مذکور میں میں نے لکھا ہے یہ الہام مجھ کو ہوا ۔ إِنَّ الَّذِينَ يَصُدُّونَ عَنْ