مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 575
مجموعہ اشتہارات ۵۷۵ جلد دوم ۲۴ رمئی ۱۸۹۷ء کے حوالہ سے لکھا ہے کہ حسین کامی کی نسبت مجھے الہام ہوا کہ یہ آدمی سلطنت کے ساتھ دیانت سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ اس کی سرشت میں نفاق کی رنگ آمیزی ہے اور اسی کومیں نے مخاطب کر کے کہا کہ تو بہ کرو تا نیک پھل پاؤ۔یہ تو میرے الہامات تھے جومیں نے صاف دلی سے لاکھوں انسانوں میں بذریعہ اشتہار ۲۴ رمئی ۱۸۹۷ء اور اشتہار ۲۵ / جون ۱۸۹۷ء شائع کر دیئے۔مگر افسوس کہ ان اشتہارات کے شائع کرنے پر ہزار ہا مسلمان میرے پر ٹوٹ پڑے۔بعض کو تو قلتِ تدبر کی وجہ سے یہ دھو کہ لگا کہ گویا میں نے سلطان روم کی ذات پر کوئی حملہ کیا ہے حالانکہ وہ میرے اشتہارات اب تک موجود ہیں۔سلطان کی ذات سے اُن پیشگوئیوں کو کچھ تعلق نہیں۔صرف بعض ارکان سلطنت اور کارکن لوگوں کی نسبت الہام شائع کیا گیا ہے کہ وہ امین اور دیانت دار نہیں ہیں۔اور کھلے کھلے طور پر اشارہ کیا گیا ہے کہ اول نشانہ ان الہامات کا وہی حسین کامی ہے اور وہی دیانت اور امانت کے پیرایہ سے محروم اور بے نصیب ہے۔اور ان اشتہاروں کے شائع ہونے کے بعد بعض اخبار والوں نے حسین کامی کی حمایت میں میرے پر حملے کئے کہ ایسے امین اور دیانت دار کی نسبت یہ الہام ظاہر کیا ہے کہ وہ سلطنت کا سچا امین اور دیانتدار عہدہ دار نہیں ہے اور اس کی سرشت میں نفاق کی رنگ آمیزی ہے اور اس کو ڈرایا گیا ہے کہ تو بہ کرو ورنہ تیرا انجام اچھا نہیں حالانکہ وہ مہمان تھا۔انسانیت کا یہ تقاضا تھا کہ اس کی عزت کی جاتی۔ان تمام الزامات کا میری طرف سے یہی جواب تھا کہ میں نے اپنے نفس کے جوش سے حسین کا می کو کچھ نہیں کہا بلکہ جو کچھ میں نے اس پر الزام لگایا تھا وہ الہام الہی کے ذریعہ سے تھا نہ ہماری طرف سے مگر افسوس کہ اکثر اخبار والوں نے اس پر اتفاق کر لیا کہ در حقیقت حسین کا می بڑا امین اور دیانت دار بلکہ نہایت بزرگوار اور نائب خلیفتہ المسلمین سلطان روم تھا۔اس پر ظلم ہوا کہ اس کی نسبت ایسا کہا گیا اور اکثر نے تو اپنی بات کو زیادہ رنگ چڑھانے کے لئے میرے تمام کلمات کو سلطان المعظم کی طرف منسوب کر دیا تا مسلمانوں میں جوش پیدا کریں۔چنانچہ میرے ان