مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 572
مجموعہ اشتہارات ۵۷۲ جلد دوم گئے ہیں کہ یا مرزائے قادیاں اپنے افترا سے اس نائب الخلافت یعنی مظہر نور الہی کے ہاتھ پر تو بہ کرے اور آئندہ اپنے تئیں مسیح موعود ٹھہرانے سے باز آجائے اور ایسا ہی اور بھی بعض اخباروں میں میری بدگوئی کو مد نظر رکھ کر اس قدر اس شخص کی تعریفیں کی گئیں کہ قریب تھا کہ اس کو آسمان چہارم کا فرشتہ بنا دیتے۔لیکن جب وہ میرے پاس آیا تو اس کی شکل دیکھنے سے ہی میری فراست نے یہ گواہی دی کہ یہ شخص امین اور دیانت دار اور پاک باطن نہیں اور ساتھ ہی میرے خدا نے مجھ کو القا کیا که رومی سلطنت انہی لوگوں کی شامت اعمال سے خطرہ میں ہے کیونکہ یہ لوگ کہ جو علی حسب مراتب قرب سلطان سے کچھ حصہ رکھتے ہیں اور اس سلطنت کی نازک خدمات پر مامور ہیں یہ اپنی خدمات کو دیانت سے ادا نہیں کرتے اور سلطنت کے سچے خیر خواہ نہیں ہیں بلکہ اپنی طرح طرح کی خیانتوں سے اس اسلامی سلطنت کی جو حرمین شریفین کے محافظ اور مسلمانوں کے لئے مغتنمات میں سے ہے کمزور کرنا چاہتے ہیں۔سوئیں اس الہام کے بعد محض القاء الہی کی وجہ سے حسین پک کامی سے سخت بیزار ہو گیا۔لیکن نہ رومی سلطنت کے بغض کی وجہ سے بلکہ محض اس کی خیر خواہی کی وجہ سے۔پھر ایسا ہوا کہ ترک مذکور نے درخواست کی کہ میں خلوت میں کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں۔چونکہ وہ مہمان تھا اس لئے میرے دل نے اخلاقی حقوق کی وجہ سے جو تمام بنی نوع کو حاصل ہیں یہ نہ چاہا کہ اس کی اس درخواست کو رد کروں۔سومیں نے اجازت دی کہ وہ میرے خلوت خانہ میں آیا تو اس نے جیسا کہ میں نے اشتہار ۲۴ رمئی ۱۸۹۷ء کے پہلے اور دوسرے صفحہ میں لکھا ہے مجھ سے یہ درخواست کی کہ میں اُن کے لئے دعا کروں۔تب میں نے اس کو وہی جواب دیا جو اشتہار مذکور کے صفحہ۲ میں درج ہے جو آج سے قریباً دو برس پہلے تمام برٹش انڈیا میں شائع ہو چکا ہے۔چنانچہ اشتہار ۲۴ مئی ۱۸۹۷ء کے صفحہ کی یہ عبارت ہے جو میری طرف سے سفیر مذکورکو جواب ملا تھا اور وہ یہ ہے کہ جو میں موٹی قلم سے لکھتا ہوں ”سلطان روم کی سلطنت کی اچھی حالت نہیں ہے اور میں کشفی طریق سے اُس کے ارکان کی حالت اچھی نہیں دیکھتا اور میرے نزدیک ان حالتوں کے ساتھ انجام اچھا نہیں دیکھ صفحہ دوسطر ۶٫۵۔اشتہار ۲۴ مئی ۱۸۹۷، مطبع ضیاء الاسلام قادیان۔