مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 573 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 573

۵۷۳ جلد دوم مجموعہ اشتہارات پھر میں نے اسی اشتہار کے صفحہ ۲ سطر 9 کے مطابق اُس ترک کو نصیحت دی اور اشارہ سے اس کو یہ سمجھایا کہ اس کشف کا اوّل نشانہ تم ہو اور تمہارے حالات الہام کی رو سے اچھے معلوم نہیں ہوتے تو بہ کرو تا نیک پھل پاؤ۔چنانچہ یہی لفظ کہ تو بہ کرو تا نیک پھل پاؤ۔‘اس اشتہار کے صفحہ ۲ سطر میں اب تک موجود ہے جو سفیر مذکور کو مخاطب کر کے کہا گیا تھا۔پس یہ تقریر میری جو اس اشتہار میں سے اس جگہ لکھی گئی ہے دو پیشگوئیوں پر مشتمل تھی (۱) ایک یہ کہ میں نے اس کو صاف لفظوں میں سمجھا دیا کہ تم لوگوں کا چال چلن اچھا نہیں ہے اور دیانت اور امانت کی نیک صفات سے تم محروم ہو (۲) دوسرے یہ کہ اگر تیری یہی حالت رہی تو تجھے اچھا پھل نہیں ملے گا اور تیرا انجام بد ہو گا۔پھر میں نے صفحہ ۳ میں بطور پیشگوئی سفیر مذکور کی نسبت لکھا ہے۔” اُس کے لئے ( یعنی سفیر مذکور کے لئے ) بہتر تھا کہ میرے پاس نہ آتا میرے پاس سے ایسی بدگوئی سے واپس جانا اس کی سخت بد قسمتی ہے۔دیکھوصفحہ ۳ سطر نمبرا۔اشتہار ۲۴ رمئی ۱۸۹۷ء۔پھر اسی صفحہ کی سطر 9 میں یہ پیشگوئی ہے اللہ جل شانہ جانتا ہے جس پر جھوٹ باندھنا لعنت کا داغ خریدنا ہے کہ اس عالم الغیب نے مجھے پہلے سے اطلاع دے دی تھی کہ اس شخص کی سرشت میں نفاق کی رنگ آمیزی ہے پھر میں نے اشتہار ۲۵ جون ۱۸۹۷ء کے صفحہ میں مذکورہ پیشگوئیوں کا اعادہ کر کے دسویں سطر سے سولہویں سطر تک یہ عبارت لکھی ہے۔ہم نے گذشتہ اشتہارات میں ترکی گورنمنٹ پر بلحاظ اس کے بعض عظیم الدخل اور خراب سے اندرون ارکان اور عمائد اور وزراء کے نہ بلحاظ سلطان کی ذاتیات کے ضرور اُس خدا داد نور اور فراست اور الہام کی تحریک سے جو ہمیں عطا ہوا ہے چند ایسی باتیں لکھی ہیں جو خود ان کے مفہوم کے خوفناک اثر سے لے نہایت افسوس کی بات ہے کہ جس عادت زبوں نے ترکوں کی یہ روز بد دکھایا اور عیسائی سلطنتوں کے ہاتھوں اُسے برباد کرایا، وہ عادت ابھی تک ان میں کم و بیش پائی جاتی ہے۔یہ عادت ملک وقوم کی اغراض پر اپنی ذاتی اغراض کو ترجیح دینا ہے۔حیرانگی کی بات تو یہ ہے کہ یہ تباہی بخش مرض عام لوگوں کے طبقہ سے گذر کر مقتدر اور سر بر آوردہ طبقہ کے اشخاص میں گھر کر گیا ہے۔کوئی دن ایسا نہیں جاتا کہ کسی نہ کسی نمک حرام ترک افسر کی غداری کی خبریں مشہور نہ ہوتی ہوں۔