مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 558 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 558

مجموعه اشتہارات ۵۵۸ جلد دوم L صادق سمجھا جاؤں گا اور صدق کی چمک لوگوں پر پڑے گی اور ایسا ہی ۲۰ راکتو بر ۱۸۹۹ء کو خواب میں مجھے یہ دکھایا گیا کہ ایک لڑکا ہے جس کا نام عزیز ہے اور اس کے باپ کے نام کے سر پر سلطان کا لفظ ہے وہ لڑکا پکڑ کر میرے پاس لایا گیا اور میرے سامنے بٹھایا گیا میں نے دیکھا کہ وہ ایک پتلا سا لڑکا گورے رنگ کا ہے ۔ میں نے اس خواب کی یہ تعبیر کی ہے کہ عزیز عزت پانے والے کو کہتے ہیں اور سلطان جو خواب میں لڑکے کا باپ سمجھایا گیا ہے ۔ یہ لفظ یعنی سلطان عربی زبان میں اس دلیل کو کہتے ہیں کہ جو ایسی بین الظہور ہو جو باعث اپنے نہایت درجہ کے روشن ہونے کے دلوں پر اپنا تسلط کرلے۔ گویا سلطان کا لفظ تسلط سے لیا گیا ہے۔ اور سلطان عربی زبان میں ہر ایک قسم کی دلیل کو نہیں کہتے بلکہ ایسی دلیل کو کہتے ہیں کہ جو اپنی قبولیت اور روشنی کی وجہ سے دلوں پر قبضہ کر لے۔ اور طبائع سلیمہ پر اس کا تسلط تام ہو جائے ۔ پس اس لحاظ سے کہ خواب میں عزیز جو سلطان کا لڑ کا معلوم ہوا اُس کی یہ تعبیر ہوئی کہ ایسا نشان جو لوگوں کے دلوں پر تسلط کرنے والا ہو گا ظہور میں آئے گا اور اس نشان کے ظہور کا نتیجہ جس کو دوسرے لفظوں میں اس نشان کا بچہ کہہ سکتے ہیں دلوں میں میرا عزیز ہونا ہو گا جس کو خواب میں عزیز کے تمثل سے ظاہر کیا گیا۔ پس خدا نے مجھے یہ دکھلایا ہے کہ قریب ہے جو سلطان ظاہر ہو یعنی دلوں پر تسلط کرنے والا نشان جس سے سلطان کے لفظ کا اشتقاق ہے اور اس کالازمی نتیجہ جو اس کے فرزند کی طرح ہے عزیز ہے۔ اور یہ ظاہر ہے کہ جس انسان سے وہ نشان ظاہر ہو جس کو سلطان کہتے ہیں جو دلوں پر ایسا تسلط اور قبضہ رکھتا ہے جیسا کہ ظاہری سلطان جس کو بادشاہ کہتے ہیں۔ رعایا پر تسلط رکھتا تو ضرور ہے کہ ایسے نشان کے ظہور سے اس کا اثر بھی ظاہر ہو۔ یعنی دلوں پر تسلط اس نشان کا ہو کر صاحب نشان لوگوں کی نظر میں عزیز بن جائے اور جبکہ عزیز بننے کا موجب اور علت سلطان ہی ہوا یعنی ایسی دلیل روشن جو دلوں پر تسلط کرتی ہے تو اس میں کیا شک ہے کہ عزیز ہونا سلطان کے لئے بطور فرزند کے ہوا۔ کیونکہ عزیز ہونے کا باعث سلطان ہی ہے جس لے یہ رویا لفظا پوری ہوئی کہ جناب مرزا عزیز احمد صاحب خلف مرزا سلطان احمد صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السّلام اپنے دادا برگزیدہ کو صادق مان کر بیعت کر لی (الحکم ۱۰ / مارچ ۱۹۰۶ ء صفحہ اکالم ۲)