مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 533 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 533

مجموعه اشتہارات ۵۳۳ جلد دوم بکلی قطع کلام اور ترک ملاقات رکھیں ۔ ہاں جس میں رشد اور سعادت دیکھیں اس کو معقول اور نرم الفاظ سے راہِ راست سمجھائیں اور جس میں تیزی اور لڑنے کا مادہ دیکھیں اس سے کنارہ کریں۔ کسی کے دل کو ان الفاظ سے دُکھ نہ دیں۔ کہ یہ کافر ہے یا دجال ہے یا کذاب ہے یا مفتری ہے گو وہ مولوی محمد حسین ہو یا اس گروہ میں سے یا اس کے دوستوں میں سے کوئی اور ہو۔ ایسا ہی کسی عیسائی اور کسی دوسرے فرقہ کے ساتھ بھی ایسے الفاظ جو فتنہ برپا کر سکتے ہیں استعمال میں نہ لاویں اور نرم طریق سے ہر ایک سے برتاؤ کریں۔ اور ہم مولوی محمد حسین صاحب کی خدمت میں بھی عرض کرتے م ہیں کہ چونکہ اس نوٹس پر اُن کے بھی دستخط کرائے گئے ہیں بلکہ اسی تحریری شرط سے عدالت نے اُن پر مقدمہ چلانے سے اُن کو معافی دی ہے لہذا وہ بھی اسی طور سے اپنے گروہ اہل حدیث امرتسری، لاہوری ، لدہانوی، دہلوی اور راولپنڈی کے رہنے والے اور دوسرے اپنے دلی دوستوں کو بذریعہ چھپے ہوئے اعلان کے بلا توقف اس نوٹس سے اطلاع دیں کہ وہ حسب ہدایت صاحب مجسٹریٹ بها در ضلع گورداسپورہ اپنے فریق مخالف یعنی میری نسبت کافر اور دجال اور مفتری اور کذاب کہنے سے اور گندی گالیاں دینے سے روکے گئے ہیں اور اس معاہدہ کی پابندی کے لئے نوٹس پر دستخط کر دیئے گئے ہیں کہ وہ آئندہ نہ مجھے کافر کہیں گے نہ دجال نہ کذاب نہ مفتری اور نہ گالیاں دیں گے اور نہ قادیان کو چھوٹے کاف سے لکھیں گے اور ایک حد تک اس بات کے ذمہ دار رہیں گے کہ ان کے دوستوں اور ملاقاتیوں اور گروہ کے لوگوں میں سے کوئی شخص ایسے الفاظ استعمال نہ کرے۔ سو سمجھا دیں کہ اگر وہ لوگ بھی اس نوٹس کی خلاف ورزی کریں گے تو اس عہد شکنی کے جواب دہ ہوں گے ۔ غرض جیسا کہ میں نے اس اعلان کے ذریعہ سے اپنی جماعت کے لوگوں کو متنبہ کر دیا ہے مولوی محمد حسین کی کی دلی صفائی کا یہ تقاضا ہونا چاہیے کہ وہ بھی اپنے ا اپنے اہل حدیث اور دوسرے منہ زور لوگوں کو جو اُن کے دوست ہیں بذریعہ اعلان متنبہ کریں کہ اب وہ کافر ، دجال ، کذاب کہنے سے باز آجائیں اور دل آزار گالیاں نہ دیں ورنہ سلطنت انگریزی جو امن پسند ہے باز نہ آنے کی حالت میں پورا پورا قانون سے کام لے گی ۔ اور ہم تو ایک عرصہ گزر گیا کہ اپنے طور پر یہ عہد شائع کر چکے ، کہ آیندہ کسی مخالف کے حق میں موت وغیرہ کی پیشگوئی نہیں کریں گے اور اس مقدمہ میں جو