مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 534
مجموعہ اشتہارات ۵۳۴ جلد دوم ۲۴ فروری ۱۸۹۹ء کو فیصلہ ہوا ، ہم نے اپنے ڈیفنس میں جو عدالت میں دیا گیا ثابت کر دیا ہے کہ یہ پیشگوئی کسی شخص کی موت وغیرہ کی نسبت نہیں تھی۔محض ایسے لوگوں کی غلط فہمی تھی جن کو عربی سے ناواقفیت تھی۔سو ہمارا خدا تعالیٰ سے وہی عہد ہے جو ہم اس مقدمہ سے مدت پہلے کر چکے۔ہم نے ضمیمہ انجام آتھم کے صفحہ ۲۷ میں شیخ محمد حسین اور اس کے گروہ سے یہ بھی درخواست کی تھی کہ وہ سات سال تک اس طور سے ہم سے صلح کر لیں کہ تکفیر اور تکذیب اور بد زبانی سے منہ بند رکھیں اور انتظار کریں کہ ہمارا انجام کیا ہوتا ہے لیکن اس وقت کسی نے ہماری یہ درخواست قبول نہ کی اور نہ چاہا کہ کا فراور دقبال کہنے سے باز آجائیں یہاں تک کہ عدالت کو اب امن قائم رکھنے کے لئے وہی طریق استعمال کرنا پڑا جس کو ہم صلح کاری کے طور سے چاہتے تھے۔یادر ہے کہ صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر نے مقدمہ کے فیصلہ کے وقت مجھے یہ بھی کہا تھا کہ وہ گندے الفاظ جو محمد حسین اور اس کے دوستوں نے آپ کی نسبت شائع کئے آپ کو حق تھا کہ عدالت کے ذریعہ سے اپنا انصاف چاہتے اور چارہ جوئی کراتے اور وہ حق اب تک قائم ہے۔اس لئے میں شیخ محمد حسین اور اُن کے دوستوں جعفر زٹلی وغیرہ کو مطلع کرتا ہوں کہ اب بہتر طریق یہی ہے کہ اپنے منہ کو تھام لیں۔اگر خدا کے خوف سے نہیں تو اس عدالت کے خوف سے جس نے یہ حکم فرمایا یہ ہمالیش کی ، اپنی زبان کو درست کر لیں اور اس بات سے ڈریں کہ میں مظلوم ہونے کی حالت میں بذریعہ عدالت کچھ چارہ جوئی کروں۔زیادہ کیا لکھا جاوے۔خاکی مرزا غلام احمد از قادیان ۲۶ فروری ۱۸۹۹ء مطبوعہ ضیاءالاسلام پرلیس قادیان تعداد ۷۰۰ تبلیغ رسالت جلد ۸ صفحه ۴۴ تا ۴۶)