مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 527
مجموعه اشتہارات ۵۲۷ جلد دوم الزام دعا اور فریب بد دیانتی بے ایمانی وغیرہ وغیرہ کا لگایا ہے وہ اس واسطے کہ بالواسطہ فتوی کیوں لیا گیا اور جس پر فتوی دینا ہے اس کا نام کیوں نہیں لیا گیا۔ لہذا آپ صاحبان کی خدمت شریف میں انصاف اور عدل کے خواہاں ہو کر التماس ہے کہ کیا آپ نے بھی اس مولوی موصوف کی طرح دھو کہ سے مہر میں یا دستخط کفر نامہ پر لگائے ہیں یا عام طور پر خواہ زید ہو خواہ عمر، جو شخص ایسا ر، جو حص ایسا عقیدہ بر خلاف اہل سنت والجماعت کے رکھتا ہے اس پر کفر کی مہریں لگائی ہیں جیسا کہ مفہوم آیات قرآن مجید ہے اور ایسا عالم فتوی دینے کے لائق شرعاً ہے۔ راقم خیر خواه مومنین الْجَوَابِ وَ هُوَ الْمُوَفَّقُ لِلصَّوَابِ (1) وہ استفتاء جس کا اس سوال میں ذکر کیا گیا ہے اور جواب چھپ کر مشہور ہو چکا ہے میرے سامنے بھی پیش ہوا تھا۔ اس کا جواب میں نے مندرجہ ذیل لفظوں میں دیا تھا۔ 6 امام مهدی علیه و عَلَى آبَائِهِ الصَّلوةُ وَالسَّلام کا قرب قیامت میں ظہور فرمانا اور دنیا کو عدل و انصاف سے پر کرنا احادیث مشہورہ - رنا احادیث مشہورہ سے ثابت ہے اور جمہور امت۔ ابت ہے اور جمہور امت نے اسے تسلیم کیا ہے اس امام موصوف کے تشریف لانے کا انکار صریح ضلالت اور مسلک اہل سنت والجماعت سے انحراف کرنا ہے ۔ میں نے اس جواب دینے میں کسی قسم کا دھوکا اور فریب نہیں کھایا ہے۔ اور میرے نزدیک اس وقت بھی استفتائے مذکور کا یہی جواب ہے اور میں اس شخص کو جس کا استفتاء مذکور میں ذکر ہے اس وقت بھی مسلک اہل سنت و الجماعت سے منحرف جانتا ہوں خواہ وہ زید ہو یا بکر ۔ فقط مفتی محمد عبد اللہ عفا الخ ( ٹونکی پروفیسر اور نینٹل کالج لاہور، پریزیڈنٹ انجمن حمایت اسلام لاہور و سیکرٹری انجمن مستشار العلماء)۔ (۲) جو استفتاء مطبوعہ مورخه ۲۹ ردسمبر ۱۸۹۸ء مطابق ۱۵ رشعبان ۱۳۱۶ھ معرفت ڈاکٹر