مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 518 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 518

مجموعہ اشتہارات ۵۱۸ جلد دوم جاتی۔آسمان پر ایک خدا ہے جس کی قدرتوں سے یہ سب کچھ ہوتا ہے۔سو ایک مدعی الہام کی سچائی معلوم کرنے کے لئے اس سے بہتر اور کوئی میعار نہیں کہ اس سے پیشگوئی طلب کی جائے توریت میں خدا تعالیٰ نے سچے ملہم کے لئے یہی نشانی قرار دی ہے۔پھر اگر اس میعار کے رُو سے وہ سچا نہ نکلے تو جلد پکڑا جائے گا اور خدا اُسے رُسوا کرے گا لیکن اگر وہ رُوح القدس سے تائید یافتہ ہے اور خدا اس کے ساتھ ہے تو ایسے امتحان کے وقت اس کی عزت اسی طرح ظاہر ہوگی جیسا کہ دانیال نبی کی عزت بابل کی اسیری کے وقت ظاہر ہوئی تھی۔ایک برس سے کچھ زیادہ عرصہ گذرتا ہے کہ میں نے اس عہد کو چھاپ کر شائع کر دیا ہے کہ میں کسی کی موت وضرر وغیرہ کی نسبت ہرگز کوئی پیشگوئی شائع نہ کروں گا۔پس اگر یہ پیشگوئی جو اشتہار مباہلہ ۲۱ نومبر ۱۸۹۸ء میں ہے۔کسی کی موت یا اس قسم کی ذلت کے متعلق ہوتی تو میں ہرگز اس کو شائع نہ کرتا لیکن اس پیشگوئی کو کسی کی ایسی ذلت سے جو قانونی حد کے اندر آ سکتی ہے کچھ تعلق نہ تھا۔جیسا کہ میں نے اپنے اشتہار میں مثال کے طور پر اس کی نظیر صرفی اور نحوی غلطی لکھی ہے اور ظاہر ہے کہ اگر کسی مولوی کو اس طرح پر نادم کیا جائے کہ اس کے کلام میں صرفی یا نحوی غلطی ہے تو اس قسم کی ذلت سے جو اس کو پہنچے گی قانون کو کچھ علاقہ نہیں۔میرے اس الہام میں مثلی ذلّت کی ایک شرط ایسی شرط ہے کہ اس شرط کے دیکھنے کے بعد حکام کو پھر زیادہ غور کرنے کی حاجت نہیں۔میری نیک نیتی کو خدا تعالیٰ خوب جانتا ہے اور جو شخص غور سے میری اس پیشگوئی کو پڑھے گا اور اس کی تشریحات کو دیکھے گا جو میں نے قبل از مقدمہ شائع کردی ہیں تو اس کا کانشنس اور اس کی حق شناس رُوح میرے بے خطا ہونے پر ضرور گواہی دے گی۔میں عدالت کو اس بات کا ثبوت دیتا ہوں کہ میں نے یہ اشتہار مباہلہ ایک مدت تک وہ الفاظ سن کر جو دل کو پاش پاش کرتے ہیں لکھا تھا۔اور میرا اس تحریر سے ایک تو یہ ارادہ تھا کہ بدی کا بدی سے مقابلہ نہ کروں اور خدا تعالیٰ پر فیصلہ چھوڑوں اور دوسرے یہ بھی ارادہ تھا کہ اُن فتنہ انگیز تحریروں کے اشتعال دہ اثر سے جن کا اس ڈیفنس میں کچھ ذکر کر چکا ہوں اپنی جماعت کو بچالوں اور جوش اور اشتعال کو دبا دوں تا میری جماعت صبر اور پاک دلی کے ساتھ خدا تعالیٰ کے فیصلہ کی منتظر رہے۔