مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 516
مجموعہ اشتہارات ۵۱۶ جلد دوم نے پیشگوئی طلب کی وہ رسالہ مدت سے چھپ چکا ہے اور قادیان کے ہندو بھی قریب دوسو کے اس بات کے گواہ ہیں کہ لیکھرام قریباً دو ماہ تک پیشگوئی کے تقاضا کے لئے پشاور سے آ کر قادیان میں رہا۔میں کبھی اس کے پاس پشاور نہیں گیا اس کے سخت اصرار اور بد زبانی کے بعد اور اس کی تحریر لینے کے بعد اس کے حق میں پیشگوئی کی گئی تھی۔اور یہ دونوں پیشگوئیاں چونکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے تھیں اس لئے پوری بھی ہو گئیں۔اور مجھے اس سے خوشی نہیں بلکہ رنج ہے کہ کیوں ان دونوں صاحبوں نے اس قدر اصرار کے ساتھ پیشگوئی حاصل کی جس کا نتیجہ ان دونوں کی موت تھی۔مگر میں اس الزام سے بالکل الگ اور جدا ہوں کہ کیوں پیشگوئی کی گئی۔لیکھرام نے اپنی تحریروں سے یہ ارادہ بار بار ظاہر کیا تھا کہ اس وجہ سے میں نے یہ پیشگوئی اصرار سے طلب کی ہے کہ تا جھوٹا ہونے کی حالت میں ان کو ذلیل کروں۔میں نے اس کو اور عبد اللہ آتھم کو یہ بھی کہا تھا کہ پیشگوئیاں طلب کرنا عبث ہے کیونکہ اس سے پہلے تین ہزار کے قریب مجھ سے آسمانی نشان ظاہر ہو چکے ہیں جن کے گواہ بعض قادیان کے آریہ بھی ہیں۔اُن سے حلفاً دریافت کرو اور اپنی تسلی کر لومگر مجھے اب تک ان دونوں کی نسبت یہ ہمدردی جوش مارتی ہے کہ کیوں انہوں نے ایسا نہ کیا اور کیوں مجھے اس بات پر سخت مجبور کر دیا کہ میں ان کے بارے میں کوئی پیشگوئی کروں۔یہ کہنا انصاف اور دیانت کے برخلاف ہے کہ ڈپٹی عبد اللہ آتھم کی نسبت پیشگوئی پوری نہیں ہوئی بلکہ نہایت صفائی سے الفاظ کے منشاء اور شرط مندرجہ پیشگوئی کے مفہوم کے مطابق پوری ہو گئی۔ڈپٹی عبد اللہ آتھم سے بہت مدت سے میری ملاقات تھی اور میرے حالات سے وہ بہت واقف تھا۔مجھ کو اس کی نسبت زیادہ افسوس اور درد ہے کہ کیوں اس نے ایسی پیشگوئی کو جس میں اس کی موت کی خبر تھی طلب کیا جس کے آخری اشتہار سے چھ مہینے بعد مین منشاء کے مطابق وہ فوت ہو گیا۔صرف یہی نہیں کہ یہ دو پیشگوئیاں پوری ہوئیں بلکہ انیس برس کے عرصہ میں تین ہزار کے قریب ایسے نشان ظاہر ہوئے اور ایسی غیبت کی باتیں قبل از وقت بتلائی گئیں اور نہایت صفائی سے پوری ہوئیں جن پر غور کر کے گویا انسان خدا کو دیکھ لیتا ہے اگر یہ انسان کا منصوبہ ہوتا تو اس قدرنشان کیونکر ظاہر ہو سکتے جن کی وجہ سے میری جماعت کے دل پاک