مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 511 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 511

مجموعہ اشتہارات ۵۱۱ جلد دوم دینے والوں سے موقوف نہ ہوا۔اور بدستور باہم شیر وشکر ر ہے تو پھر گورنمنٹ عالیہ کو قطعی اور یقینی طور پر سمجھنا چاہیے کہ ان کے باہمی تعلقات قائم ہیں اور یہ سب اُس خونی مہدی کے منتظر ہیں۔اور عام مسلمانوں کو چاہیے کہ خدا تعالیٰ سے خوف کر کے ان مولویوں کے ایسے چال چلن پر غور کریں یہ ان کے کشتی بان کہلاتے ہیں اور سوچیں کہ کیا ایسے لوگوں کی پیروی کر کے کسی نیکی کی امید ہو سکتی ہے۔اب ذرا فتوی ہاتھ میں لے کر نذیر حسین کو پوچھیں کہ کیا ہم محمد حسین کو کذاب دجال ، مفتری کہیں؟ پھر عبدالجبار غزنوی کے پاس جائیں اور اس سے دریافت کریں کہ کیا آپ کے فتویٰ کے مطابق محمد حسین کو ہم کافر قرار دیں؟ اور پھر عبد الحق غزنوی کو بھی اسی جگہ مل لیں اور اس سے پوچھیں کہ کیا تمہارے فتویٰ کے رو سے ہم محمد حسین کو جہنمی اور ناری کہا کریں۔اور پھر ذرا تکلیف اُٹھا کر اسی جگہ امرتسر میں مولوی احمد اللہ صاحب کے پاس جائیں اور ان سے دریافت کریں کہ کیا یہ سچ ہے کہ آپ کا فتویٰ عبدالحق کے فتویٰ کے مطابق ہے؟ کیا ہم آیندہ محمدحسین کو جہنمی کہا کریں اور کیا ہم آئیندہ اس کی ملاقات چھوڑ دیں۔اے مسلمانو! یقیناً سمجھو کہ یہ وہی مولوی ہیں جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈرایا ہے۔تم ان کو اسی نمونہ سے شناخت کر لو گے کہ بعد اس کے جو انہوں نے شیخ محمد حسین ایڈیٹر اشاعة السنه کو کافر اور دجال اور مفتری اور جہنمی قرار دیا۔پھر کیا حقیقت میں اس کو ایسا ہی سمجھتے ہیں۔یاد و صرف دکھانے کے دانت تھے۔اب میں وہ استفتاءے جس پر ایسے شخص کے کافراور دقبال ہونے کی نسبت مولویوں نے فتوے لکھے ہیں گورنمنٹ عالیہ کے گوش گزار کرنے کے لئے ذیل میں لکھتا ہوں تا کہ گورنمنٹ کو یادر ہے کہ یہ لوگ ان خیالات کے آدمی ہیں۔فقط اقم خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان ۷/جنوری ۱۸۹۹ء تبلیغ رسالت جلد ۸ صفحه ۱۷ تا ۲۴) ے یہ فتوی جلد ہذا کے صفحہ ۴۹۵،۴۹۴ پر زیر اشتہار نمبر ۲۰۵ پر درج ہو چکا ہے اس لئے دوبارہ نقل نہیں کیا گیا (مرتب)