مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 510
مجموعہ اشتہارات ۵۱۰ جلد دوم ہے کہ وہ تمام حدیثیں جھوٹی ہیں تو پھر اب ان کو صحیح کیونکر بناوے۔لہذا ممکن نہیں کہ ایسا کرے۔پس اگر یہ علماء جو اس کو کافر اور دقبال اور مفتری اور جہنمی ٹھہرا چکے ہیں بغیر ایسی تحریر شائع کرانے کے اس سے اختلاط رکھیں اور حسب منشا اپنے فتووں کے اس کو کافر اور دقبال اور کذاب اور مفتری نہ سمجھیں اور اس کی ملاقات سے پر ہیز نہ کریں تو پھر یہ خود دقبال اور مفتری ہیں لیکن ہم نہایت نیک نیتی سے گورنمنٹ عالیہ کو اس بات کی طرف توجہ دیتے ہیں کہ وہ محمد حسین کے چال چلن سے خبر دار رہے اور اس وقت تک اس کی حالت کو قابل اعتماد نہ سمجھے جب تک وہ ان مولویوں سے جو ایسے خطرناک مہدی کے منتظر ہیں بکتی علیحدگی اختیار نہ کرے۔گورنمنٹ عالیہ سمجھ سکتی ہے کہ کیسا ان لوگوں کا خطرناک عقیدہ ہے کہ ایسے خونی مہدی کے منکر کو کا فرقرار دیتے ہیں اور کذاب اور دجال اور مفتری نام رکھتے ہیں۔اور میں گورنمنٹ کو یقین دلاتا ہوں کہ محمد حسین مذکور کا یہ کہنا کہ میں ایسے مہدی کے آنے کا قائل نہیں اور میں ایسی حدیثوں کے صحیح نہیں سمجھتا بالکل منافقانہ پیرایہ میں ہے اور وہ انکارِ مہدی میں سراسر منافقانہ طریق اختیار کرتا اور گورنمنٹ کو دھوکہ دیتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ گورنمنٹ دیکھ لے گی کہ یہ فتویٰ جو منکرِ مہدی کی نسبت مولویوں نے لکھا ہے یہ محمد حسین کی نسبت ہرگز جاری نہیں کیا جاوے گا کیونکہ وہ در پردہ فی الفور ان کو کہہ دے گا کہ میں اُس خونی مہدی کے آنے کا قائل ہوں۔اور یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ اس قدر اختلاف کے ساتھ کہ وہ مہدی کے آنے سے انکاری ہو اور وہ لوگ اس کا فراور دجال کہیں اور مفتری اور کذاب اور جہنمی اس کا نام رکھیں۔اور پھر ان کا باہمی میل ملاقات جاری رہے بجز اس صورت کے کہ در پردہ ایک ہی اعتقاد پر متفق ہوں۔وہ تو فتویٰ میں یہ بھی لکھ چکے ہیں کہ ایسے آدمی کے ساتھ کہ اس خونی مہدی کے آنے کا منتظر نہیں میل ملاقات ہرگز جائز نہیں کیونکہ وہ کافر ہے۔غرض اب اگر اس کے بعد مولوی محمد حسین کے تعلقات ان مولویوں کے ساتھ قائم نہ رہے اور میل ملاقات سب ترک ہو گیا اور ایک دوسرے کو کافر کہنے لگے تب تو اس بات کو مان لیا جائے گا کہ محمد حسین کا گورنمنٹ عالیہ کی خدمت میں یہ ظاہر کرنا کہ میں اس مہدی کا آنا نہیں مانتا جو بزعم اہلِ حدیث خلیفہ اور بادشاہ ہوکر آئے گا اور سخت لڑائیاں کرے گا درست اور صحیح ہے لیکن اگر محمد حسین مذکور کا میل ملاقات ان فتویٰ