مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 507
مجموعہ اشتہارات ۵۰۷ جلد دوم اس کے اس عقیدہ کے اس کو کذاب اور مفتری اور دجال اور کافر اور دائرہ اسلام سے خارج اپنے فتووں میں لکھا اور اس طرح پر اس کو ذلیل کر کے ہماری وہ پیشگوئی پوری کی جو اشتہار مباہلہ ۲۱ نومبر ۱۸۹۸ء میں شائع کی گئی تھی۔اور نیز ان احادیث نبویہ کو بھی پورا کیا جو آخری زمانہ کے مولویوں کے بارے میں ہیں اور اپنے طریق عمل سے ان کی صحت پر گواہی دے دی۔مگر اس دوسری بات کے خیال کرنے سے ہمیں رنج بھی ہوا کہ ان لوگوں کے یہ فتوے دیانت اور ایمانداری پر مبنی نہیں بلکہ یہود کے علماء کی طرح اپنی نفسانی اغراض اور تعصبات اور کینہ وری پر مبنی ہیں۔چنانچہ ان لوگوں کی یہی کارروائی ان کے حالات باطنی پر کافی گواہ ہے جو ہمارے استفاء مورخہ ۲۹؍ دسمبر ۱۸۹۸ء میں ان سے ظہور میں آئی۔ان سے یہ فتویٰ طلب کی گیا تھا کہ اس شخص کی نسبت آپ لوگ کیا فرماتے ہیں جو اس مہدی کے آنے کا منکر ہو جس کے نسبت آپ لوگوں کا اعتقاد ہے کہ وہ ظاہری اور باطنی خلیفہ ہوگا۔اور بذریعہ لڑائیوں کے دین کو غالب کرے گا تو ان مولویوں نے اپنے دلوں میں یہ خیال کر کے کہ ایسے اعتقاد کا پابند تو یہی شخص یعنی یہ عاجز ہے محض شرارت کی راہ سے یہ تجویز کی کہ آؤ اب بھی اس فتوے کے رو سے اس کو کافر اور دجال اور مفتری قرار دیں۔تب فی الفور یہ گندے اور پلید فتوے لکھ مارے اور اگر ان کو پہلے سے خبر ہوتی کہ یہ استفتاء شیخ محمد حسین بٹالوی ایڈیٹر اشاعۃ السنہ کے لئے لکھا گیا ہے تو ہر گز یہ فتوے نہ دیتے۔اب اس حقیقت کو سن کر کہ وہ شخص جس کی نسبت فتویٰ طلب کیا گیا تھا ان کا دلی دوست محمد حسین ہے جس قدران کو ندامت ہوگی اس کا اندازہ کرنا مشکل ہے۔یہی علماء دین اور حامیان شرع متین ہیں جن کی دیانت پر لوگ بھروسہ کیسے بیٹھے ہیں اور جن کی نسبت عوام خیال کرتے ہیں کہ وہ دین کے پیشوا اور دیندار بلکہ شیخ الکل ہیں۔اب خدائے غیور کی غیرت نے ان سب کے پردے پھاڑ دیئے۔خدا کے الہام میں ایک فقرہ یہ بھی تھا کہ شَاهَتِ الْوُجُوهُ سوپورا ہو گیا۔اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ شیخ محمد حسین بٹالوی ایڈیٹر اشاعۃ السنہ کی بعض خفیہ تحریریں ہمارے ہاتھ آگئی ہیں جن میں وہ گورنمنٹ کے سامنے زمین لینے کی طمع سے یہ بیان کرتا ہے کہ جس مہدی قرشی کی لوگوں کو انتظار ہے جو ان کے زعم میں خلیفہ ظاہر و باطن ہو گا اس مہدی کے بارے میں