مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 482
مجموعہ اشتہارات ۴۸۲ جلد دوم پر اُنیس سو برس تک زندگی بسر کرنا باوجود اس امر کے کہ قرآن کی رُو سے ایک قدر قلیل بھی بغیر زمین کے انسان زندگی بسر نہیں کر سکتا۔کس قدر خلاف نصوص صریح قرآن ہے جس پر ہمارے مخالف ناحق اصرار کر رہے ہیں۔تیسرے یہ کہ قرآن شریف صاحب فرماتا ہے کہ کسی انسان کا آسمان پر چڑھ جانا عادۃ اللہ کے مخالف ہے۔جیسا کہ فرماتا ہے کہ قُل سُبحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَّسُولًا لے لیکن ہمارے مخالف حضرت عیسی کو ان کے جسم عصری کے ساتھ آسمان پر چڑھاتے ہیں۔چوتھے یہ کہ قرآن شریف صاف فرماتا ہے کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیا ہیں۔مگر ہمارے مخالف حضرت عیسی علیہ اسلام کو خاتم انبیا ٹھہراتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جو صحیح مسلم وغیرہ میں آنے والے مسیح کو نبی اللہ کے نام سے یاد کیا ہے وہاں حقیقی نبوت مراد ہے۔اب ظاہر ہے کہ جب وہ اپنی نبوت کے ساتھ دنیا میں آئے تو ہمارے نبی صلے اللہ علیہ وسلم کیونکر خاتم انبیا ٹھہر سکتے ہیں؟ نبی ہونے کی حالت میں حضرت عیسی علیہ السلام نبوت کے لوازم سے کیونکر محروم رہ سکتے ہیں؟! غرض ان لوگوں نے یہ عقیدہ اختیار کر کے چار طور سے قرآن شریف کی مخالفت کی ہے اور پھر اگر پوچھا جائے کہ اس بات کا ثبوت کیا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام اپنے جسم عصری کے ساتھ آسمان پر چڑھ گئے تھے تو نہ کوئی آیت پیش کر سکتے ہیں اور نہ کوئی حدیث دکھلا سکتے ہیں۔صرف نزول کے لفظ کے ساتھ اپنی طرف سے آسمان کا لفظ ملا کر عوام کو دھوکہ دیتے ہیں مگر یادر ہے کہ کسی حدیث مرفوع متصل میں آسمان کا لفظ پایا نہیں جاتا اور نزول کا لفظ محاورات عرب میں مسافر کے لئے آتا ہے اور نزیل مسافر کو کہتے ہیں۔چنانچہ ہمارے ملک کا بھی یہی محاورہ ہے کہ ادب کے طور پر کسی وار دشہر کو پوچھا کرتے ہیں کہ آپ کہاں اترے ہیں۔اور اس بول چال میں کوئی بھی یہ خیال نہیں کرتا که یه شخص آسمان سے اُترا ہے۔اگر اسلام کے تمام فرقوں کی حدیث کی کتابیں تلاش کرو تو صحیح حدیث تو کیا کوئی وضعی حدیث بھی ایسی نہیں پاؤ گے جس میں یہ لکھا ہو کہ حضرت عیسی جسم عصری کے ساتھ آسمان پر چلے گئے تھے اور پھر کسی زمانہ میں زمین کی طرف واپس آئیں گے۔اگر کوئی ایسی ا بنی اسراءیل : ۹۴