مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 483
مجموعہ اشتہارات ۴۸۳ جلد دوم حدیث پیش کرے تو ہم ایسے شخص کو بیس ہزار روپیہ تک تاوان دے سکتے ہیں اور تو بہ کرنا اور تمام اپنی کتابوں کا جلا دینا اس کے علاوہ ہوگا جس طرح چاہیں تسلی کر لیں۔افسوس ہے کہ ہمارے سادہ لوح علما صرف نزول کا لفظ احادیث میں دیکھ کر اس بلا میں گرفتار ہو گئے ہیں کہ خواہ نخواہ امیدیں باندھ رہے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام آسمان سے واپس آئیں گے اور وہ دن ایک بڑے تماشے اور نظارہ کا دن ہوگا کہ اُن کے دائیں بائیں فرشتے ساتھ ساتھ ہوں گے جو اُن کو آسمان سے اُٹھا کر لائیں گے۔افسوس کہ یہ لوگ کتابیں تو پڑھتے ہیں مگر آنکھ بند کر کے۔فرشتے تو ہر ایک انسان کے ساتھ رہتے ہیں اور بموجب حدیث صحیح کے طالب العلموں پر اپنے پروں کا سایہ ڈالتے ہیں۔اگر مسیح کو فرشتے اُٹھا ئیں تو کیوں نرالے طور پر اس بات کو مانا جائے۔قرآن شریف سے تو یہ بھی ثابت ہے کہ ہر ایک شخص کو خدا تعالیٰ اُٹھائے پھرتا ہے حَمَلْنَاهُم فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ یے مگر کیا خدا کسی کو نظر آتا ہے؟ یہ سب استعارات ہیں مگر ایک بیوقوف فرقہ چاہتا ہے کہ اُن کو حقیقت کے رنگ میں دیکھیں اور اس طرح پر ناحق مخالفوں کو اعتراض کا موقعہ دیتے ہیں یہ نادان نہیں جانتے کہ اگر حدیثوں کا مقصد یہ تھا کہ وہی مسیح جو آسمان پر گیا تھا واپس آئے گا تو اس صورت میں نزول کا لفظ بولنا ہے محل تھا۔ایسے موقعہ پر یعنی جہاں کسی کا واپس آنا بیان کیا جاتا ہے۔عرب کے فصیح لوگ رجوع بولا کرتے ہیں نہ نزول۔پھر کیونکہ ایسا غیر فصیح اور بے محل لفظ اس افْصَحُ الْفُصَحَاء اور اَعْرَفُ النَّاس صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح منسوب کیا جائے جو تمام فصحاء کا سردار ہے۔یہ اعلان کتاب البریہ کے حاشیہ صفحہ ۱۸۹ تا ۱۹۳ پر درج ہے) (روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۲۲۲ تا ۶ ۲۲ حاشیه ) بنی اسراءیل اے