مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 464
مجموعہ اشتہارات ۴۶۴ جلد دوم منصور کیا۔گواوائل میں حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی کی طرح داغ ہجرت آپ کے بھی نصیب ہوا مگر وہی ہجرت فتح اور نصرت کے مبادی اپنے اندر رکھتی تھی۔سواے دوستو! یقیناً سمجھو کہ متقی کبھی برباد نہیں کیا جاتا۔جب دو فریق آپس میں دشمنی کرتے بقیہ حاشیہ۔اور چونکہ بنی اسرائیل بخت النصر کے حادثہ میں متفرق ہو کر بلادِ ہند اور کشمیر اور تبت اور چین کی طرف چلے آئے تھے اس لئے حضرت مسیح علیہ السلام نے ان ہی ملکوں کی طرف ہجرت کرنا ضروری سمجھا۔اور تواریخ سے اس بات کا بھی پتہ ملتا ہے کہ بعض یہودی اس ملک میں آکر اپنی قدیم عادت کے موافق بدھ مذہب میں بھی داخل ہو گئے تھے۔چنانچہ حال میں جو ایک مضمون سول ملٹری گزٹ پر چه تاریخ ۲۳ / نومبر ۱۸۹۸ء میں چھپا ہے اُس میں ایک محقق انگریز نے اس بات کا اقرار بھی کیا ہے اور اس بات کو بھی مان لیا ہے کہ بعض جماعتیں یہودیوں کی اس ملک میں آئی تھیں اور اس ملک میں سکونت پذیر ہوگئی تھیں اور اُسی پر چہ سول میں لکھا ہے کہ ” دراصل افغان بھی بنی اسرائیل میں سے ہیں، غرض جب کہ بعض بنی اسرائیل بدھ مذہب میں داخل ہو گئے تھے تو ضرور تھا کہ حضرت عیسی علیہ السلام اس ملک میں آ کر بدھ مذہب کے رڈ کی طرف متوجہ ہوتے اور اس مذہب کے پیشواؤں کو ملتے۔سو ایسا ہی وقوع میں آیا۔اسی وجہ سے حضرت عیسی علیہ السلام کے سوانح بدھ مذہب میں لکھے گئے۔معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں اس ملک میں بدھ مذہب کا بہت زور تھا اور بید کا مذہب مر چکا تھا اور بدھ مذہب بید کا انکار کرتا تھالیے خلاصہ یہ کہ ان تمام امور کو جمع کرنے سے ضروری طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ضرور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس ملک میں تشریف لائے تھے۔یہ بات یقینی اور پختہ ہے کہ بدھ مذہب کی کتابوں میں اُن کے اس ملک میں آنے کا ذکر ہے اور جو مزار حضرت عیسی علیہ السلام کا کشمیر میں ہے جس کی نسبت بیان کیا جاتا ہے کہ وہ قریباً انہیں شوبرس سے ہے۔یہ اس امر کے لئے نہایت اعلیٰ درجہ کا ثبوت ہے۔غالباً اُس مزار کے ساتھ کچھ کتنے ہوں گے جواب مخفی ہیں۔ان تمام امور کی مزید تحقیقات کے لئے ہماری جماعت میں سے ایک علمی تفتیش کا قافلہ طیار ہو رہا ہے جس کے پیشر و اخویم مولوی حکیم حاجی حرمین نورالدین صاحب سلمه ربه قرار پائے ہیں یہ قافلہ اس کھوج اور تفتیش کے لئے مختلف ملکوں میں پھرے گا اور ان سرگرم دینداروں کا کام ہوگا کہ پالی زبان کی کتابوں کو بھی دیکھیں کیونکہ یہ بھی پتہ لگا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام اُس نواح میں بھی اپنی گم شدہ بھیڑوں کی تلاش ا صرف یہی بات نہیں کہ بدھ مذہب کی بعض کتابوں میں حضرت عیسی علیہ السلام کے ہندوستان اور تبت میں آنے کا تذکرہ ہے بلکہ ہمیں معتبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ کشمیر کی پرانی تحریروں میں بھی اس کا تذکرہ ہے۔منہ 1900