مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 453
مجموعہ اشتہارات ۴۵۳ جلد دوم جاوے (دیکھو جنگ مقدس میں آخری پر چہ قادیانی کا صفحہ اخیر ) پس ہم کو یہ شرط منظور ہے لیکن اس رُو سیاہی کے بعد اس کو گدھے پر سوار کر کے کوچہ بکوچہ ان چاروں شہروں میں پھرایا جاوے اور بجائے دینے جرمانہ یا انعام آٹھ سو پچیس روپیہ کے صرف آٹھ سو چھپیں جوتے۔۔۔حضرت اقدس (اکذب ) کے سر مبارک پر رسید ہوں۔جن کو انھیں چاروں مواضع کے مرید۔۔۔آپ کی نذر کریں اور اس کفش کاری اور پاپوش باری کے بعد بھی گدھے کی سواری پر آپ کا جلوس نکلے اور آگے آگے آپ کے مخلص مرید بطور مرثیہ خوانی یہ مصرع پڑھتے جاویں۔بے چرا کارے کند عاقل کہ باز آید پشیمانی لے اور یہ شعر صائب کا بنمائے بہ صاحب نظرے گوہر خود را عیسی نتواں گشت بہ تصدیق خرے چند۔اور یہ رباعی مرسل یزدانی و عیسی نبی اللہ شدی۔باز می گوئی کہ دجالت نخوانند اے حمار۔کفشہا۔برسرخوری از افترائے ناسزا۔روسیه گشتی میان مردم قرب و جوار اور یہ بیت اردو اڑا تا خاک سر پر جھومتا مستانہ آتا ہے یہ کھاتا جوتیاں سر پر مرا دیوانہ آتا ہے راقم سید ابوالحسن تبتی حال وارد کوه شمله سنجولی ۳۱ اکتوبر ۱۸۹۸ء ے بدذاتوں کی بدذاتی اور بدکاری کی خدا تعالے دیکھتا ہے سو جو شخص اُس کی نظر میں بد کا را ور کذاب ہے وہ اس کو بے سزا نہیں چھوڑے گا۔من المشتہر