مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 404
مجموعه اشتہارات ٢٠۴ جلد دوم نادان مسلمانوں کو پوشیدہ خیالات کے برخلاف دل و جان سے گورنمنٹ انگلشیہ کی شکر گزاری کے لئے ہزار ہا اشتہارات شائع کئے گئے اور ایسی کتابیں بلاد عرب و شام وغیرہ تک پہنچائی گئیں؟ یہ باتیں بے ثبوت نہیں ۔ اگر گورنمنٹ توجہ فرماوے تو نہایت بدیہی ثبوت میرے پاس ہیں۔ میں زور سے کہتا ہوں اور میں دعوئی سے گورنمنٹ کی خدمت میں اعلان دیتا ہوں کہ باعتبار مذہبی اصول کے مسلمانوں کے تمام فرقوں میں سے گورنمنٹ کا اول درجہ کا وفادار اور جان شار یہی نیا فرقہ ہے جس کے اصولوں میں کوئی اصول گورنمنٹ کے لئے خطرناک نہیں ۔ ہاں اس بات کا بھی ذکر کرنا ضروری ہے کہ میں نے بہت سی مذہبی کتابیں تالیف کر کے عملی طور پر اس بات کو بھی دکھلایا ہے کہ ہم لوگ سکھوں کے عہد میں کیسے مذہبی امور میں مجبور کئے گئے اور فرائض دعوت دین اور تائید اسلام سے روکے گئے تھے اور پھر اس گورنمنٹ محسنہ کے وقت میں کسی قدر مذہبی آزادی بھی ہمیں حاصل ہوئی کہ ہم پادریوں کے مقابل پر بھی جو گورنمنٹ کی قوم میں داخل ہیں پورے زور سے اپنی حقانیت کے دلائل پیش کر سکتے ہیں۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ ایسی کتابوں کی تالیف سے جو پادریوں کے مذہب کے رڈ میں لکھی جاتی ہیں گورنمنٹ کے عادلانہ اصولوں کا اعلیٰ نمونہ لوگوں کو ملتا ہے اور غیر ملکوں کے لوگ خاص کر اسلامی بلاد کے نیک فطرت جب ایسی کتابوں کو دیکھتے ہیں جو ہمارے ملک سے اُن ملکوں میں جاتی ہیں تو اُن کو اس گورنمنٹ سے نہایت اُنس پیدا ہو جاتا ہے یہاں تک کہ بعض خیال کرتے ہیں کہ شاید یہ گورنمنٹ در پردہ مسلمان ہے۔ اور اس طرح پر ہماری قلموں کے ذریعہ سے گورنمنٹ ہزاروں دلوں کو فتح کرتی جاتی ہے۔ دیسی پادریوں کے نہایت دل آزار حملے اور توہین آمیز کتابیں در حقیقت ایسی تھیں کہ اگر آزادی کے ساتھ اُن کی مدافعت نہ کی جاتی اور ان کے سخت کلمات کے عوض میں کسی قدر مہذبانہ سختی استعمال میں آتی تو بعض جاہل جو جلد تر بدگمانی کی طرف جھک جاتے ہیں شاید یہ خیال کرتے کہ گورنمنٹ کو پادریوں کی خاص رعایت ہے۔ مگر اب ایسا خیال کوئی نہیں کر سکتا اور بالمقابل کتابوں کے شائع ہونے سے وہ اشتعال جو پادریوں کی سخت تحریروں سے پیدا ہونا ممکن تھا اندر ہی اندر دب گیا اور ا