مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 387
مجموعہ اشتہارات ۳۸۷ جلد دوم چونکہ نو را ایمان اور جو ہر سعادت سے بے بہرہ تھا اس لئے با وجو دسخت خوفناک اور ہراساں ہونے کے بھی یہ سعادت اس کو میسر نہ آئی اور خوف کا اقرار کر کے پھر افترا کے طور پر اس خوف کی وجہ ان ہمارے فرضی حملوں کو ٹھیرایا جو صرف اسی کے دل کا منصوبہ تھا حالانکہ اس نے پندرہ مہینے تک یعنی میعاد کے اند در کبھی ظاہر نہ کیا کہ ہم نے یا ہماری جماعت میں سے کسی نے اس پر حملہ کیا تھا۔اگر ہماری طرف سے اس کے قتل کرنے کے لئے حملہ ہوتا تو حق یہ تھا کہ میعاد کے اندر اسی وقت جب حملہ ہوا تھا شور مچاتا اور حکام کو خبر دیتا۔اگر ہماری طرف سے ایک بھی حملہ ہوتا تو کیا کوئی قبول کر سکتا ہے کہ اس حملہ کے وقت عیسائیوں میں شور نہ پڑ جاتا۔پھر جس حالت میں آتھم نے میعاد گذرنے کے بعد یہ بیان کیا کہ میرے قتل کرنے کیلئے مختلف وقتوں اور مقاموں میں تین حملے کئے گئے تھے یعنی ایک امرتسر میں اور ایک لدھیانہ میں اور ایک فیروز پور میں تو کیا کوئی منصف سمجھ سکتا ہے کہ باوجود ان تینوں حملوں کے جو خون کرنے کے لئے تھے آتھم اور اس کا داماد جوا کسٹرا اسٹنٹ تھا اور اس کی تمام جماعت چپ بیٹھی رہتی اور حملہ کرنے والوں کا کوئی بھی تدراک نہ کراتی اور کم سے کم اتنا بھی نہ کرتی کہ اخباروں میں چھپوا کر ایک شور ڈال دیتی اور اگر نہایت نرمی کرتی تو سرکا ر سے باضابطہ میری ضمانت سنگین طلب کرواتی۔کیا کوئی دل قبول کر لے گا کہ میری طرف سے تین حملے ہوں اور آتھم اور اس کی جماعت سب کے سب چپ رہیں بات تک باہر نہ نکلے؟ کیا کوئی عقلمند اس بات کو قبول کر سکتا ہے خاص کر جس حالت میں میرے حملوں کا ثبوت میری پیشگوئیوں کی ساری قلعی کھولتا تھا اور عیسائیوں کو نمایاں فتح حاصل ہوتی تھی۔پس آتھم نے یہ جھوٹے الزام اسی لئے لگائے کہ پیشگوئی کی میعاد کے اندر اس کا خائف اور ہراساں ہونا ہر ایک پر کھل گیا تھا۔وہ مارے خوف کے مرا جا تا تھا۔اور یہ ممکن ہے کہ یہ آثار خوف اس پر اس طرح ظاہر ہوئے ہوں جیسا کہ یونس کی قوم پر ظاہر ہوئے تھے۔غرض اس نے الہامی شرط سے فائدہ اٹھایا مگر دنیا سے محبت کر کے گواہی کو پوشیدہ رکھا اور قسم نہ کھائی اور نالش نہ کرنے سے ظاہر بھی کر دیا کہ وہ ضرور خدا تعالی کے خوف اور اسلامی عظمت سے ڈرتا رہا۔لہذا وہ اخفائے شہادت کے بعد دوسرے الہام کے موافق جلد تر فوت ہو گیا۔بہر حال یہ مقدمہ کہ جو اس