مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 373 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 373

مجموعہ اشتہارات جلد دوم چونکہ ان کتابوں کے مقابل پر کتابیں تالیف ہوئیں اور سخت باتوں کا جواب کسی قدر سخت باتوں کے ساتھ ہو گیا اس لئے مسلمانوں کے عوام کا جوش اندر ہی اندر دب گیا۔یہ بات بالکل سچ ہے کہ اگر سخت الفاظ کے مقابل پر دوسری قوم کی طرف سے کچھ سخت الفاظ استعمال نہ ہوں تو ممکن ہے کہ اس قوم کے جاہلوں کا غیظ و غضب کوئی اور راہ اختیار کرے۔مظلوموں کے بخارات نکلنے کے لئے یہ ایک حکمت عملی ہے کہ وہ بھی مباحثات میں سخت حملوں کا سخت جواب دیں۔لیکن یہ طرز پھر بھی کچھ بہت قابل تعریف نہیں بلکہ اس سے تحریرات کا روحانی اثر گھٹ جاتا ہے اور کم سے کم نقصان یہ ہے کہ اس سے ملک میں بداخلاقی پھیلتی ہے۔یہ گورنمنٹ کا فرض ہے کہ عام طور پر ایک سخت قانون جاری کر کے ہر ایک مذہبی گروہ کو سخت الفاظ کے استعمال سے ممانعت کر دے تاکہ کسی قوم کے پیشوا اور کتاب کی توہین نہ ہو۔اور جب تک کسی قوم کی معتبر اور مسلم کتابوں سے واقعات صحیحہ معلوم نہ ہوں جن سے اعتراض پیدا ہوسکتا ہو کوئی اعتراض نہ کیا ا جائے۔ایسے قانون سے ملک میں بہت امن پھیل جائے گا اور مفسد طبع فتنہ انگیز لوگوں کے منہ بند ہو جائیں گے اور تمام مذہبی بحثیں علمی رنگ میں آجائیں گی۔اسی غرض سے میں نے ایک درخواست گورنمنٹ میں پیش کرنے کے لئے طیار کی ہے اس کے ساتھ کئی ہزار مسلمانوں کے دستخط بھی ہیں مگر چونکہ اب تک کافی دستخط نہیں ہوئے اس لئے ابھی تک تو قف ہے۔مگر در حقیقت یہ ایسا کام ہے کہ ضرور اس طرف گورنمنٹ کی توجہ چاہیے۔حفظ امن کے لئے اس سے بہتر اور کوئی تدبیر نہیں کہ ہتک آمیز اور فتنہ انگیز الفاظ سے ہر ایک قوم پر ہیز کرے۔اور کسی مذہب پر وہ الزام نہ لگائے جس کو اس مذہب کے حامی قبول نہیں کرتے اور نہ ان کی مسلم اور معتبر کتابوں میں اس کا کوئی اصل صحیح پایا جاتا ہے۔اور نہ ایسا الزام لگائے جو اُس کی مسلم کتابوں یا نبیوں پر بھی عائد ہوتا ہے۔اور جو شخص اس ہدایت کی خلاف ورزی کرے اس کے لئے کوئی سزا مقرر ہو۔بے شک بغیر اس تدبیر کے مذہبی فتنوں کا زہریلا بیج بکتی دور نہیں ہوسکتا۔