مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 374
مجموعہ اشتہارات ۳۷۴ جلد دوم میں افسوس سے لکھتا ہوں کہ ڈاکٹر کلارک نے میری بعض مذہبی تحریریں پیش کر کے عدالت میں یہ خلاف واقعہ بیان کیا ہے کہ یہ سخت لفظ خود بخودان کی نسبت کہے گئے ہیں۔میں حکام کو یقین دلاتا ہوں کہ ہرگز یہ میری عادت میں داخل نہیں کہ خود بخود کسی کو آزار دوں اور نہ ایسی عادت کو میں پسند کرتا ہوں۔بلکہ جو کچھ سخت الفاظ میں لکھا گیا وہ سخت الفاظ کا جواب تھا۔مگر مخالفوں کی سختی سے نہایت کم۔تاہم یہ طریق بھی میری طبیعت اور عادت سے مخالف ہے۔اور جیسا کہ صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر نے مقدمہ کے فیصلہ پر مجھے یہ ہدایت کی ہے کہ آئندہ اشتعال کو روکنے کے لئے مباحثات میں نرم اور مناسب الفاظ کو استعمال کیا جائے میں اسی پر کار بند رہنا چاہتا ہوں اور اس اشتہار کے ذریعہ سے اپنے تمام مریدوں کو جو پنجاب اور ہندوستان کے مختلف مقامات میں سکونت رکھتے ہوں نہایت تاکید سے سمجھاتا ہوں کہ وہ بھی اپنے مباحثات میں اس طرز کے کار بند رہیں۔اور ہر ایک سخت اور فتنہ انگیز لفظ سے پر ہیز کریں۔اور جیسا کہ میں نے پہلے اس سے شرائط بیعت کی دفعہ چہارم میں سمجھایا ہے سرکار انگریزی کی سچی خیر خواہی اور بنی نوع کی سچی ہمدردی کریں اور اشتعال دینے والے طریقوں سے اجتناب رکھیں اور پر ہیز گار اور صالح اور بے شر انسان بن کر پاک زندگی کا نمونہ دکھلائیں۔اور اگر کوئی ان میں سے ان وصیتوں پر کار بند نہ ہو یا بے جا جوش اور وحشیانہ حرکت اور بد زبانی سے کام لے تو اس کو یا درکھنا چاہیے کہ وہ ان صورتوں میں ہماری جماعت کے سلسلہ سے باہر متصور ہوگا اور مجھ سے اس کا کوئی تعلق باقی نہیں رہے گا۔دیکھو! آج میں کھلے کھلے لفظوں سے آپ لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ آپ لوگ ہر ایک مفسدہ اور فتنہ کے طریق سے مجتنب رہیں اور صبر اور برداشت کی عادت کو اور بھی ترقی دیں اور بدی کی تمام راہوں سے اپنے تئیں دور رکھیں اور ایسا نمونہ دکھلا ئیں جس سے آپ لوگوں کی ہر ایک نیک خلق میں زیادت ثابت ہو۔اور میں امید رکھتا ہوں کہ آپ لوگ جو اہل علم اور فاضل اور تربیت یافتہ اور نیک مزاج ہیں ایسا ہی کریں گے۔مگر یا در ہے اور خوب یادر ہے کہ جو شخص ان وصیتوں پر کار بند