مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 353
مجموعہ اشتہارات ۳۵۳ جلد دوم آگئے اور ان کو یہودیوں کے سامنے منہ دکھلانے کی جگہ نہ رہی تب بعض مفتری حیلہ سازوں نے یہ گواہی دے دی کہ ہم نے یسوع کو آسمان پر چڑھتے دیکھا ہے پھر کیونکر اس کا رفع نہیں ہوا مگر اس گواہی میں گو بالکل جھوٹ سے کام لیا تھا مگر پھر بھی ایسی شہادت کو یہودیوں کے اعتراض سے کچھ تعلق نہ تھا کیونکہ یہودیوں کا اعتراض رفع روحانی کی نسبت تھا جس کی بنیاد تو ریت پر تھی اور رفع جسمانی کی کوئی بحث نہ تھی۔اور ماسوا اس کے جسمانی طور پر اگر کوئی بفرض محال پرندوں کی طرح پرواز بھی کرے اور آنکھوں سے غائب ہو جائے تو کیا اس سے ثابت ہو جائے گا کہ وہ درحقیقت کسی آسمان پر جا پہنچا ہے؟ عیسائیوں کی یہ سادہ لوحی تھی جو انہوں نے ایسا منصوبہ بنایا ورنہ اس کی کچھ ضرورت نہ تھی۔ساری بحث روحانی رفع کے متعلق تھی جس سے لعنت کا مفہوم روکتا تھا افسوس ان کو یہ خیال نہ آیا که توریت میں جو لکھا ہے جو مصلوب کا رفع الی اللہ نہیں ہوتا تو یہ تو سچے نبیوں کی عام علامت رکھی گئی تھی اور یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ صلیبی موت جرائم پیشہ کی موت ہے اور سچے نبیوں کے لئے یہ پیشگوئی تھی کہ وہ جرائم پیشہ کی موت سے نہیں مریں گے۔اسی لئے حضرت آدم سے لے کر آخر تک کوئی سچا نبی مصلوب نہیں ہوا۔پس اس امر کو رفع جسمانی سے کیا علاقہ تھا۔ورنہ لازم آتا ہے کہ ہر ایک سچا نبی معه جسم عصری آسمان پر گیا ہو اور جو جسم عصری کے ساتھ آسمان پر نہ گیا ہو وہ جھوٹا ہو۔غرض تمام جھگڑا رفع روحانی میں تھاجو چھ سوبرس تک فیصلہ نہ ہوسکا۔آخر قر آن شریف نے فیصلہ کر دیا۔اس کی طرف الله جَلَّ شانہ نے اشارہ فرمایا ہے يَا عِیسَی إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَى یعنی اے عیسی میں تجھے طبعی وفات دوں گا اور اپنی طرف تیرا رفع کروں گا یعنی تو مصلوب نہیں ہوگا۔اس آیت میں یہود کے اس قول کا رڈ ہے کہ وہ کہتے تھے کہ عیسی مصلوب ہو گیا اس لئے ملعون ہے اور خدا کی طرف اس کا رفع نہیں ہوا۔اور عیسائی کہتے تھے کہ تین دن لعنتی رہ کر پھر رفع ہوا۔اور اس آیت نے یہ فیصلہ کیا کہ بعد وفات بلا توقف خدا تعالیٰ کی طرف عیسی کا رفع روحانی ہوا۔اور خدا تعالیٰ نے اس جگہ رَافِعُكَ إِلَى ال عمران : ۵۶