مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 348
مجموعہ اشتہارات ۳۴۸ جلد دوم کے ایک ظاہری فرماں روا کے لئے جوش آیا اور خدا کے قائم کردہ سلسلہ پر تھوکا اور اس کے مامور کو پلید قرار دیا حالانکہ سلطان کے بارے میں میں نے ایک لفظ بھی منہ سے نہیں نکالا تھا۔صرف اس کے بعض ارکان کی نسبت بیان کیا تھا اور یا اس کی گورنمنٹ کی نسبت جو مجموعہ ارکان سے مراد ہے ملہمانہ خبر تھی۔سلطان کی ذاتیات کا کچھ بھی ذکر نہ تھا۔لیکن پھر بھی اس بزرگ نے وہ شعر میری نسبت پڑھا کہ شاید مثنوی کے مرحوم مصنف نے نمرود اور شداد اور ابو جہل اور ابولہب کے حق میں بنایا ہوگا۔اور اگر میں سلطان کی نسبت کچھ نقطه چینی بھی کرتا تب بھی میرا حق تھا کیوں کہ اسلامی دنیا کے لئے مجھے خدا نے حکم کر کے بھیجا ہے جس میں سلطان بھی داخل ہے اور اگر سلطان خوش قسمت ہو تو یہ اس کی سعادت ہے کہ میری نقطه چینی پر نیک نیتی کے ساتھ توجہ کرے اور اپنے ملک کی اصلاحوں کی طرف جدو جہد کے ساتھ مشغول ہو۔اور یہ کہنا کہ ایسے ذکر سے کہ زمین کی سلطنتیں میرے نزدیک ایک نجاست کی مانند ہیں اس میں سلطان کی بہت بے ادبی ہوئی ہے یہ ایک دوسری حماقت ہے۔بے شک دنیا خدا کے نزدیک مردار کی طرح ہے اور خدا کو ڈھونڈنے والے ہر گز دنیا کو عزت نہیں دیتے یہ ایک لا علاج بات ہے جو روحانی لوگوں کے دلوں میں پیدا کی جاتی ہے کہ وہ بچی بادشاہت آسمان کی بادشاہت سمجھتے ہیں اور کسی دوسرے کے آگے سجدہ نہیں کر سکتے۔البتہ ہم ہر ایک منعم کا شکر کریں گے۔ہمدردی کے عوض ہمدردی دکھلائیں گے۔اپنے محسن کے حق میں دعا کریں گے۔عادل بادشاہ کی خدا تعالیٰ سے سلامتی چاہیں گے گو وہ غیر قوم کا ہو مگر کسی سفلی عظمت اور بادشاہت کو اپنے لئے بت نہیں بنا ئیں گے۔ہمارے پیارے رسول سید الکائنات صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔اِذَ اوَقَعَ الْعَبْدُ فِي أُلْهَانِيَّةِ الرَّبِ وَمُهَيْمِنِيَّةِ الصِّدِّيقِينَ وَرَهْبَانِيَّةِ الأَبْرَارِ لَمْ يَجِدْاَحَدًا يَأْخُذُ بِقَلْبِهِ۔یعنی جب کسی بندہ کے دل میں خدا کی عظمت اور اُس کی محبت بیٹھ جاتی ہے اور خدا اس پر محیط ہو جاتا ہے جیسا کہ وہ صدیقوں پر محیط ہوتا ہے اور اپنی رحمت اور خاص عنایت کے اندر اس کو لے لیتا ہے اور ابرار کی طرح اس کو غیروں کے تعلقات سے چھوڑ دیتا ہے تو ایسا بندہ کسی کا ایسا نہیں پاتا کہ اپنی عظمت یا و جاہت یا خوبی کے ساتھ اس کے دل کو پکڑ لے کیونکہ اس پر ثابت ہو جاتا ہے کہ تمام عظمت اور وجاہت اور خوبی خدا میں ہی