مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 346
مجموعه اشتہارات ۳۴۶ جلد دوم گردش ایام سے اسلام میں پیدا ہو گیا ہے اور یہ لوگ قبولیت دعا سے منکر اور اس برتر ہستی کی بے انتہا قدرت سے انکاری ہیں جو عجائب کام دکھلاتا اور اپنے بندوں کی دعائیں قبول کر لیتا ہے ۔ گویا نیم دہر یہ ہیں۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے چاہا کہ ان کو پھر ایک استجابت دعا کا نمونہ دکھلائے جس کا برکات الدعا کے ایک کشف میں وعدہ بھی ہو چکا ہے اور میرے صدق اور کذب کے لئے یہ ایک اور نشان ہوگا۔ اگر میں خدا تعالیٰ کی جناب میں در حقیقت ایسا ہی ذلیل اور دجال اور کذاب ہوں جو اُس بزرگ نے سمجھا ہے تو میری دعا بے اثر ہو جائے گی اور سال عیسوی کے گذرنے کے بعد میری ذلت ظاہر ہوگی اور روسیاہی نا قابل زوال مجھے اُٹھانی پڑے گی ۔ میں اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ کسی کے اہل اللہ ہونے میں اس کی دعا کا قبول ہونا شرط ہے۔ ہر ایک ولی مستجاب الدعوات ہوتا ہے اور اس کو وہ حالت میسر آجاتی ہے جو استجابت دعا کے لئے ضروری ہے ۔ ہاں جب کبھی وہ حالت میسر نہ ہو تب دعا کا قبول ہونا ضروری نہیں ۔ وہ حالت یہ کہ کسی کی نسبت نیک دعا یا بددعا کے لئے اہل اللہ کا دل چشمہ کی طرح یک دفعہ پھوٹتا ہے اور فی الفور ایک شعلہ نور آسمان سے گرتا اور اس سے اتصال پاتا ہے اور ایسے وقت میں جب دعا کی جاتی ہے تو ضرور قبول ہو جاتی ہے۔ سو یہی وقت مجھے اس بزرگ کے لئے میتر آیا۔ میں ان لوگوں کی روز کی تکذیبوں اور لعنت اور ٹھٹھے اور ہنسی کے دیکھنے سے تھک گیا ۔ میری روح اب رب العرش کی جناب میں رو رو کر فیصلہ چاہتی ہے۔ اگر میں در حقیقت خدا تعالیٰ کی نظر میں مردود اور مخذول ہوں جیسا کہ ان لوگوں نے سمجھا تو میں خود ایسی زندگی نہیں چاہتا جو لعنتی زندگی ہو۔ اگر میرے پر آسمان سے بھی لعنت ہے جیسا کہ زمین سے لعنت ہے تو میری روح اوپر کی لعنت کی برداشت نہیں کر سکتی اگر میں سچا ہوں تو اس بزرگ کی خدا تعالیٰ سے ایسے طور سے پردہ دری چاہتا ہوں جو بطور نشان ہو اور جس سے سچائی کو مدد ملے ورنہ لعنتی زندگی سے میرا مرنا بہتر ہے۔ میرے صادق یا کاذب ہونے کا یہ آخری معیار ہے جس کو فیصلہ ناطق کی طرح سمجھنا چاہیے۔ میں خدا سے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کرتا ہوں کہ اگر میں اس کی نظر میں عزیز ہوں تو وہ اس بزرگ کی ایسے طور سے پردہ دری کرے جواب تک کسی کے خیال و گمان میں نہ ہو۔ میں جانتا ہوں کہ میرا خدا قادر اور ہر ایک قوت کا مالک ہے وہ ان