مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 340
مجموعہ اشتہارات ۳۴۰ جلد دوم محرف اور مبدل کر کے لکھی گئی ہیں۔اور اس طرح پر بے وقوفوں کے دلوں کو جوش دلانے اور اُبھارنے کے لئے کارروائی کی گئی ہے اور ہم اگر چہ جعل سازوں اور دروغگوؤں کا منہ تو بند نہیں کر سکتے اور نہ اُن کی بدزبانی اور گالیوں اور ڈوموں کیطرح تمسخر اور ٹھٹھے کا مقابلہ کر سکتے ہیں تاہم مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اُن کی ظالمانہ بدزبانی کو خدا تعالیٰ کی غیرت کے حوالہ کر کے اُن کے اصل مدعا کو جو دھوکہ دہی ہے نادانوں پر اثر ڈالنے سے روکا جائے۔پس اسی غرض سے یہ اشتہار شائع کیا جاتا ہے۔ہر ایک مسلمان عقلمند بھلا مانس نیک فطرت جو اپنی شرافت سے سچی بات کو قبول کرنے کے لئے طیار ہوتا ہے اس بات کو متوجہ ہو کر سنے کہ ہم کسی ادنیٰ سے ادنیٰ مسلمان کلمہ گو سے بھی کینہ نہیں رکھتے چہ جائیکہ ایسے شخص سے کینہ ہو جس کی ظل حمایت میں کروڑ ہا اہل قبلہ زندگی بسر کرتے ہیں۔اور جس کی حفاظت کے نیچے خدا تعالیٰ نے اپنے مقدس مکانوں کو سپر د کر رکھا ہے۔سلطان کی شخصی حالت اور اس کی ذاتیات کے متعلق نہ ہم نے کبھی کوئی بحث کی اور نہ اب ہے بلکہ اللہ جل شانہ جانتا ہے کہ ہمیں اس موجودسلطان کے بارے میں اس کے باپ دادے کی نسبت زیادہ حسن ظن ہے۔ہاں ہم نے گذشتہ اشتہارات میں ترکی گورنمنٹ پر بلحاظ اس کے بعض عظیم الدخل اور خراب اندرون ارکان اور عمائد اور وزراء کے نہ بلحاظ سلطان کی ذاتیات کے ضرور اس خدا داد نور اور فراست اور الہام کی تحریک سے جو ہمیں عطا ہوا ہے چند باتیں لکھی ہیں جو خود اُن کے مفہوم کے خوفناک اثر سے ہمارے دل پر ایک عجیب رقت اور درد طاری ہوتی ہے۔سو ہماری وہ تحریر جیسا کہ گندے خیال والے سمجھتے ہیں کسی نفسانی جوش پر مبنی نہ تھی بلکہ اس روشنی کے چشمہ سے نکلی تھی جو رحمت الہی نے ہمیں بخشا ہے۔اگر ہمارے تنگ ظرف مخالف بدظنی پر سرنگوں نہ ہوتے تو سلطان کی حقیقی خیر خواہی اس میں نہ تھی کہ وہ چوہڑوں اور چماروں کی طرح گالیوں پر کمر باندھتے بلکہ چاہیے تھا کہ آیت وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ پر عمل کر کے اور نیز آیت اِنَّ بَعْضَ الظَّنِ الم سے کو یاد کر کے سلطان کی خیر خواہی اس میں دیکھتے کہ اس کے لئے صدق دل سے دعا کرتے۔میرے اشتہار کا بجز اس کے کیا مطلب تھا کہ رومی ا بنی اسراءیل : ۳۷ الحجرات : ۱۳