مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 302
مجموعہ اشتہارات جلد دوم کسی کام میں نفاق نہیں۔ہم خوب جانتے ہیں کہ نیکی کرنے والوں کی نیکی کو ضائع کرنا بدذاتی ہے۔بعض نادان مسلمانوں نے ہم پر اعتراض کیا ہے کہ جوٹر کی سفیر کے خط کارڈ بذریعہ اشتہار شائع کیا گیا ہے اس میں سلطان روم کی بے ادبی کی گئی ہے اور وہ خلیفتہ المؤمنین ہے اور نیز اس اشتہار میں مداہنہ کے طور پر انگریزوں کی تعریف کی گئی ہے۔لیکن واضح رہے کہ یہ تمام باتیں کو نہ اندیشی اور بخل کی وجہ سے ہمارے مخالفوں کے منہ سے نکل رہی ہیں۔ہم نے سلطان کو کچھ بُرا نہیں کہا اور نہ بے ادبی کی بلکہ ہمیں افسوس ہے کہ جس شخص کے ایسے سفیر اور ایسے ارکان ہیں اس کی حالت قابل رحم ہے۔ہم نے اس سفیر کو بچشم خود دیکھا ہے کہ بجائے نماز تمام روز شطرنج اور ٹھٹھا اور ہنسی میں گزارتا تھا۔وہ قادیان میں آکر ایک ایسی جماعت کے اندر آ گیا تھا جو اس بے قیدی کی طرز اور طریق سے بالکل مخالف تھی۔خدا جانتا ہے کہ ہمارا دل اس بات سے جلتا اور کباب ہوتا ہے اور بے اختیار جوش اُٹھتا ہے کہ ایسے دنوں میں اس سلطنت کے ارکان کو چاہیے تھا کہ تقویٰ میں ترقی کرتے۔منہیات سے باز آتے۔نماز کی پابندی اختیار کرتے۔خدا تعالیٰ سے ڈرتے اور بے قیدوں اور بدر وشوں کی طرح زندگی بسر نہ کرتے۔کیونکہ اسلام کی تمام ترقی تقوی سے شروع ہوئی ہے اور پھر جب اسلام ترقی کرے گا تقویٰ سے کرے گا۔اِنَّ اللهَ لَا يُغَيْرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيْرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ۔رہی یہ بات کہ سلطان روم خلیفہ المؤمنین ہے اس کے ارکان کی نسبت ایسے سو عوادب کے الفاظ منہ پر لانا بیبا کی اور گستاخی میں داخل ہے۔سو یہ سراسرنا بھی ہے اور در حقیقت جو شخص مجھے ایک کا فرد جال بے ایمان کا ذب خیال کرتا ہے وہ بیشک میری اُس تقریر سے سخت ناراض ہو گا جو میں نے اشتہار ۲۴ مئی ۱۸۹۷ء میں شائع کی ہے۔لیکن میں پوچھتا ہوں کہ ذرا اپنے دلوں میں فرض کر لو کہ اگر یہ تقریر اس شخص کی طرف سے ہے جو خدا کی طرف سے تیرہ سو برس کے وعدہ کے موافق مسیح موعود ہو کر آیا ہے اور خدا کا نائب ہے۔جس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کہا ہے۔تو کیا سلطان روم کی عظمت کو اُس کے مقابل یاد کرنا اور الرعد : ۱۲