مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 290
مجموعہ اشتہارات ۲۹۰ جلد دوم کہ یا الہی اگر یہ شخص جو مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرتا ہے تیرے نزدیک جھوٹا اور کاذب اور مفتری ہے اور ہم اپنی رائے میں بچے اور حق پر اور تیرے مقبول بندے ہیں تو ایک سال تک کوئی فوق العادت امر غیب بطور نشان ہم پر ظاہر فرما اور ایک سال کے اندر ہی اس کو پورا کر دے۔اور میں اس کے مقابل پر یہ دعا کروں گا کہ یا الہی اگر تو جانتا ہے کہ میں تیری طرف سے ہوں اور درحقیقت مسیح موعود ہوں تو ایک اور نشان پیشگوئی کے ذریعہ سے میرے لئے ظاہر فرما اور اس کو ایک سال کے اندر پورا کر۔پھر اگر ایک سال کے اندر اُن کی تائید میں کوئی نشان ظاہر ہوا۔اور میری تائید میں کچھ ظاہر نہ ہوا تو میں جھوٹا ٹھہروں گا۔اور اگر میری تائید میں کچھ ظاہر ہوا مگر اس کے مقابل پر اُن کی تائید میں بھی ویسا یہ کوئی نشان ظاہر ہو گیا تب بھی میں جھوٹا ٹھہروں گا۔لیکن اگر میری تائید میں ایک سال کے عرصہ تک کھلا کھلا نشان ظاہر ہو گیا اور اُن کی تائید میں نہ ہوا تو اس صورت میں میں سچا ٹھہروں گا اور شرط یہ ہوگی کہ اگر تصریحات متذکرہ بالا کی رو سے فریق مخالف سچا نکلا تو میں اُن کے ہاتھ پر تو بہ کروں گا اور جہاں تک ممکن ہوگا میں اپنی وہ کتابیں جلا دوں گا جن میں ایسے دعوی یا الہامات ہیں۔کیونکہ اگر خدا نے مجھے جھوٹا کیا تو پھر میں ایسی کتابوں کو پاک اور مقدس خیال نہیں کر سکتا۔اور نہ صرف اسی قدر بلکہ اپنے موجودہ اعتقاد کے برخلاف یقینی طور پر سمجھ لوں گا کہ محمد حسین بٹالوی اور عبدالجبار غزنوی اور عبدالحق غزنوی اور رشید احمد گنگوہی اور محمد حسین کا پیارا دوست محمد بخش جعفر زٹلی اور دوسرا پیارا دوست محمد علی بو پڑی یہ سب اولیاء اللہ اور عباداللہ الصالحین ہیں۔اور جس قدر ان لوگوں نے مجھے گالیاں دیں اور لعنتیں بھیجیں۔یہ سب ایسے کام تھے کہ جن سے خدا تعالیٰ ان پر راضی ہوا۔اور قرب اور اصطفا اور اجتبا کے مراتب تک اُن کو پہنچا دیا۔میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ایسا ہی کروں گا۔اگر خدا کی مرضی مجھے عزت دینے کی نہیں تو میرے پر لعنت ہے اگر میں اس کے برخلاف کروں۔لیکن اگر تصریحات بالا کی رو سے خدا نے مجھے سچا کر دیا تو چاہیے کہ محمد حسین بٹالوی اور عبدالحق غزنوی اور عبدالجبار غزنوی اور رشید احمد