مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 270 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 270

مجموعہ اشتہارات جلد دوم غرق کیا جاؤں یا یہ کہ مہینہ اور تاریخ اور گھنٹہ موت کا مجھے بتلایا جائے۔یہ آپ کے پہلے اقرار کے برخلاف ہے۔جو سما چار۳ اپریل ۱۸۹۷ء میں کر چکے ہو۔علاوہ اس کے میں خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہوں۔اس کے حکم سے زیادہ نہیں کہ سکتا اور نہ کم۔ہاں اگر میعاد کے اندر کوئی زیادہ تشریح خدا تعالیٰ کی طرف سے کی گئی تو میں اس کو شائع کر دوں گا۔مگر کوئی عہد نہیں۔آپ اگر اپنی پہلی بہادری پر قائم ہیں تو ایک سال کی شرط کو قبول کر لیں۔میں یہ اقرار بھی کرتا ہوں کہ صرف اس حالت میں یہ نشان نشان سمجھا جائے گا کہ جب کسی انسانی منصوبہ سے آپ کی موت نہ وہ اور کسی دشمن بداندیش کے قتل کا شبہ نہ ہو۔غرض یہ بات میرے اقرار میں داخل ہے کہ اگر آپ کی موت قتل یاز ہر خورانی کے ذریعہ سے ہو جائے یا کسی اور ایسے ہی واقعہ سے وقوع میں آئے جس میں کسی دشمن کے منصوبہ کا دخل ثابت ہو تو بے شک میں جھوٹا ٹھیروں گا۔لیکن اگر آپ ہی اپنے قتل ہونے کا باعث ہو جا ئیں۔مثلاً کسی بے گناہ کو قتل کریں اور اس کے عوض میں آپ کو پھانسی دیدے یا کسی وجہ سے خود کشی کر لیں یا ز ہر کھالیں۔غرض ثابت نہ ہو کہ کسی دشمن کے منصوبہ کا آپ کی موت میں دخل نہیں تو نہ صرف یہ کہ آپ کے وارثوں کو دس ہزار روپیہ ملے گا بلکہ شرعا وقانونا میں جرم قتل کا مجرم ٹھہروں گا !! اور یادر ہے کہ اشتہار ۱۵ مارچ ۱۸۹۷ء میں ہمارا یہ قول کہ وہ عذاب کسی انسان کے ہاتھوں اور منصوبہ سے نہ ہو۔اس سے مراد وہ انسانی منصوبہ ہے جو عداوت اور بد نیتی پر مبنی ہوتا ہے۔لیکن اگر کوئی اپنے جرم کی سزا میں مثلاً بغاوت میں یا قتل عمد میں عدالت کے ذریعہ پھانسی کی سزا پاوے۔یا مثلاً کسی ایسی اپنی دوا کو غلطی سے اندازہ سے زیادہ کھالے جس میں کوئی حصہ زہر کا ملا ہوا ہوا اور اس سے مر جائے تو ایسی تمام صورتیں ہمارے بیان سے مستثنیٰ ہیں اور ایسی حالتوں میں بے شک کہا جائے گا کہ پیشگوئی پوری ہو گئی۔گو ہم بدل چاہتے ہیں کہ ایسی حالتوں سے بھی آپ الگ رہیں۔اور یادر ہے کہ اگر آئیندہ اس مطالبہ کے برخلاف آپ کی طرف سے یا آپ کے کسی اور ہم قوم کی طرف سے کوئی اور تحریر شائع ہوئی تو اس کو فضول سمجھ کر اعراض کیا جائے گا۔اور اگر ۱۰ مئی ۱۸۹۷ء تک بذریعہ رجسٹری