مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 267
مجموعہ اشتہارات ۲۶۷ جلد دوم سے کرانا چاہتے ہیں یہ کوئی نئی شرط نہیں ہے۔کیونکہ ہماری یہ تمام کارروائی صرف اس غرض سے ہے کہ تاہم ثابت کریں کہ دنیا میں صرف دین اسلام ہی سچا مذہب ہے اور دوسرے تمام مذہب باطل ہیں۔اور اگر یہ غرض درمیان نہ ہو تو یہ سب جھگڑے ہی عبث ہیں اور ہمارے الہام بھی عبث۔یہی تو ایک مدعا ہے یعنی دین اسلام کی سچائی ثابت کرنا۔جس کے لئے یہ نشان خدا تعالیٰ کی طرف سے ظاہر ہورہے ہیں۔چنانچہ آپ نے سما چار ۳ اپریل ۱۸۹۷ء کی تحریر میں اس بات کا خود بھی اقرار کر لیا جبکہ یہ کہا کہ ” میرے مرنے کے بعد دوسرے لوگ آپ کے مقابل پر کھڑے نہیں ہوں گے کیا اس تحریر کا بجز اس کے کوئی اور مدعا تھا کہ اس فتح کے بعد دوسرے مذہبوں کا جھوٹا ہونا ثابت ہو جائے گا۔سوہم آپ سے بذریعہ اخبار اور نیز بالمواجہ یہی اقرار چاہتے ہیں اور پنڈت لیکھرام سے بھی پیشگوئی کے مطالبہ یہی اقرار لیا گیا تھا کہ یہ پیشگوئی آریہ مذہب اور اسلام میں بطور فیصلہ کرنے والے منصف کے متصور ہوگی۔وہی عہد نامہ ۱۸ اپریل ۱۸۹۷ء کو تلاشی کے وقت صاحب ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس کے حضور میں پڑھا گیا تھا۔میں سوچ میں ہوں کہ اقرار کے بعد یہ بیہودہ انکار آپ نے کیوں کر دیا۔ادنی عقل کا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے کہ یہ تمام ہماری سرگرمی اس غرض سے نہیں ہے کہ کوئی شخص ہم کو منجموں اور رمالوں کی طرح مان لے یا صرف سچی پیشگوئیوں والا سمجھ لے۔اس قسم کی لغو تعریفوں سے تو ہم بدل بیزار ہیں۔بلکہ یہ سب اسلام کی تائید میں خدا تعالیٰ کے الہام ہیں اور اسلام کی سچائی ظاہر کرنے کیلئے یہ سب کام وہ قادر مطلق اپنے ہاتھ سے کر رہا ہے۔جس کا نام اللہ ہے۔جَلَّ جَلالُهُ۔اب ہم صاف لفظوں میں لالہ گنگا بشن کو مطلع کرتے ہیں کہ اس قسم کی چالبازی دیانت کے طریق سے بعید ہے۔ہم نے ان کے دس ہزار کے مطالبہ پر کسی غیر متعلق اور بے جا شرط کو زیادہ نہیں کیا بلکہ یہ وہی شرط ہے جو ہماری تمام کارروائی میں ہمیشہ سے محوظ اور ہماری زندگی کی علت غائی ہے۔اگر اس شرط کو ساقط کیا گیا تو باقی کیا رہا؟ کیا ہم ایک انسان کی جان ناحق ضائع کرنی چاہتے ہیں؟ یا ہم صرف ایک بے ہودہ لہو و لعب کے مشتاق ہیں جس کا دین کے لیے کوئی بھی نتیجہ نہ ہو۔ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ اس قدر عظیم الشان معرکہ میں جس میں دس ہزار روپیہ نقد پہلے جمع