مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 263
مجموعہ اشتہارات ۲۶۳ جلد دوم صلاح دیتے ہیں کہ اگر اسلام کی محبت ہے تو ان مولویوں سے پر ہیز کریں لیے آئیندہ اگر اور بھی تجربہ کرنا ہے تو ان کا اختیار ہے۔یہ مولوی بالکل ان فقیہوں اور فریسیوں کے خمیر سے ہیں جو حضرت عیسی علیہ السلام کے دشمن تھے۔اب ہم ایک بڑی حکمت اس خانہ تلاشی کی لکھتے ہیں جس کے تصور سے ہمیں اس قدرخوشی ہے کہ ہم اندازہ نہیں کر سکتے۔جس دن خانہ تلاشی ہونے والی تھی یعنی ۱۸ اپریل روز پنج شنبہ۔اس دن افسران پولیس کے آنے سے چند منٹ پہلے میں اپنے رسالہ سراج منیر کی ایک کاپی پڑھ رہا تھا اور اس میں براہین احمدیہ کے حوالہ سے یہ مضمون تھا کہ خدا تعالیٰ نے جو اپنی کلام میں میرا نام عیسی رکھا ہے تو ایک وجہ مشابہت وہ ابتلاء ہے جو حضرت عیسی کو پیش کیا تھا۔یعنی یہود کی قوم نے اپنی کوششوں سے اور نیز گورنمنٹ رومیہ کو دھوکہ دینے سے چاہا کہ حضرت عیسی کو صلیب دی جائے۔اس عبارت کے پڑھنے کے وقت مجھے یہ خیال آیا کہ حضرت مسیح کے دشمنوں نے دو پہلو اختیار کئے تھے۔ایک یہ کہ اپنی طرف سے ایذارسانی کی کوششیں کیں اور دوسرے یہ کہ گورنمنٹ کے ذریعہ سے بھی تکلیف دی۔مگر میرے معاملہ میں تو اب تک صرف ایک پہلو ہے۔یعنی صرف آریوں کی کوششیں اور اخباروں اور خطوط کے ذریعہ سے ان کی بد گوئی۔اُس وقت معا میرے دل نے خواہش کی کہ کیا اچھا ہوتا کہ گورنمنٹ کی دست اندازی کا پہلو بھی اس کے ساتھ شامل ہو جاتا تا وہ پیشگوئی جو لیکھرام کی نسبت اس لے مولوی محمد حسین صاحب اگر سچے دل سے یقین رکھتے ہیں کہ یہ پیشگوئی لیکھرام والی جھوٹی نکلی تو انہیں مخالفانہ تحریر کے لئے تکلیف اُٹھانے کی کچھ ضرورت نہیں۔ہم خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ اگر وہ جلسہ عام میں میرے روبرو یہ قسم کھالیں کہ یہ پیشگوئی خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں تھی اور نہ بچی نکلی اور اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے تھی اور فی الواقعہ پوری ہو گئی ہے تو اے قادر مطلق ایک سال کے اندر میرے پر کوئی عذاب شدید نازل کر، پھر اگر مولوی صاحب موصوف اس عذاب شدید سے ایک سال تک بچ گئے تو ہم اپنے تیں جھوٹا سمجھ لیں گے۔اور مولوی صاحب کے ہاتھ پر تو بہ کریں گے اور جس قدر کتا ہیں ہمارے پاس اس بارے میں ہوں گی جلا دیں گے۔اور اگر وہ اب بھی گریز کریں تو اہل اسلام خود سمجھ لیں کہ ان کی کیا حالت ہے۔اور کہاں تک ان کی نوبت پہنچ گئی ہے۔منا