مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 259 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 259

مجموعہ اشتہارات ۲۵۹ جلد دوم ایسا ہی لالہ گنگا بشن صاحب کی دوسری شرط کی نسبت میں اُن کو تسلی دیتا ہوں کہ اُس روز سے کہ وہ کسی مشہور پر چہ کے ذریعہ سے اقرار مذکورہ بالا شائع کریں لیے میں ایک ماہ تک یا غایت دو ماہ تک دس ہزار روپیہ اُن کے لئے گورنمنٹ میں جمع کرا دونگا یا کسی دوسری ایسی جگہ پر جس پر فریقین مطمئن ہو سکیں اور یہ جو میں نے کہا کہ اس روز سے دوماہ تک روپیہ جمع کراؤں گا جبکہ وہ اپنا اقرار شائع کریں۔اس سے میرا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے اس پر چہ سما چار ۳ اپریل ۱۸۹۷ء میں اس اقرار کو شائع نہیں کیا جس اقرار کو میں قسم کے ساتھ شائع کرانا چاہتا ہوں۔یعنی یہ اقرار کہ وہ میری نسبت نام لے کر یہ امر شائع کر دیں کہ میں یقیناً جانتا ہوں کہ واقعہ قتل پنڈت لیکھر ام اس شخص کے حکم یا اس کے مشورہ سے یا اس کے علم سے ہوا ہے اور جیسا کہ اس کا دعویٰ ہے خدا کی طرف سے یہ کوئی نشان نہیں بلکہ اسی کی اندرونی اور خفیہ سازش کا نتیجہ ہے اور اگر میں قسم کے دن سے ایک سال تک فوت ہو گیا تو میرا مرنا اس بات پر گواہی ہو گی کہ درحقیقت لیکھرام خدا کے غضب سے اور پیشگوئی کے موافق فوت ہوا ہے اور نیز اس بات پر گواہی ہوگی کہ در حقیقت دین اسلام ہی سچا مذہب ہے اور باقی آریہ مذہب یا ہندو مذہب و عیسائی مذہب وغیرہ مذاہب سب بگڑے ہوئے عقیدے ہیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہیں“۔اس اقرار کے لکھانے سے غرض یہ ہے کہ ہمارے تمام مناظرات سے اصلی مقصود یہی ہے که دین اسلام ہی سچا دین ہے۔اور اسی غرض سے لیکھرام کی نسبت اس کی رضا مندی سے یہ پیشگوئی کی گئی تھی۔لہذا اس مقام میں بھی طرف ثانی کا یہ کھلا کھلا اقر ار شائع ہونا بہت ضروری ہے۔اور لالہ گنگا بشن صاحب یا درکھیں کہ ٹھیک ٹھیک ان الفاظ کے ساتھ کسی مشہور اخبار میں اس اقرار کو شائع کرنا ضروری ہوگا۔اور نیز یہ کہ قادیان میں آ کر قسم بھی انہیں الفاظ کے ساتھ کھانی پڑے گی۔اور یہ وہم نہ کریں کہ وہ ایسے اقرار سے کسی قانونی بیچ میں آسکتے ہیں۔کیونکہ میں ان کو اطلاع دیتا ہوں کہ میں ان کے اس الزام کے دفع کے لئے کسی قانونی ذریعہ سے چارہ جوئی پسند نہیں کرتا۔اور نہ کروں گا۔میں خدا کے فیصلہ میں خلقت کی عام بھلائی دیکھتا ہوں اور جو انہوں نے آخری شرط پیش لے وہ پرچہ جس میں اقرار حسب نمونہ شائع کریں بذریعہ رجسٹری مجھ کو بھیجنا ہوگا تا میں مطلع ہو جاؤں۔منہ